اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

بچپن

بچپن

بچپن کے پہلے چھ برس بہت ضروری ہوتے ہیں کہ ان ہی دنوں میں انسان کی پرسنیلٹی بنتی اور ابھرتی ہے۔ بعد کے وقت کے حالات اور واقعات گو اسے کچھ نہ کچھ تبدیل کر سکتے ہیں مگر ماہرین نفسیات کے فرمان کے مطابق انسانی نفسیات کا سانچہ انہی اولین سالوں ہی میں تشکیل پاتا ہے۔
ہمیں رات کے بچے باسی چاولوں پر نمک مرچ چھڑک کر کھا لینا آج بھی یوں مزے دار لگتا ہے جیسے رات کا بچا ہوا پیزا صبح ناشتے میں اپنا عجب سواد دے جاتا ہے۔

اردوکلاسیکل ادب زندہ ہے

اردوکلاسیکل ادب زندہ ہے

قدیم ہندوستانی راجواڑوں میں نوخیز دوشیزاؤں کو کتخدائی اور سوئمبر سے قبل عجیب وغریب رسومات سے گزرنا پڑتاتھا۔ پشتینی خادمائیں خاندانی خفیہ نسخوں کی مدد سے اناجوں، سوکھے پھولوں، پھلوں، بیجوں، نباتات کی چھٹک پھٹک اورحیوانات کے دودھ، چربیوں کی آمیزش سے وہ نادر حسن بخش، تازگی اور ناز کی عطا کرنے والے ابٹن بناتیں جو حسنِ نوخیزاں کو مزید چار چاند لگادیتے۔

ہنسے تو پھنسے

ہنسے تو پھنسے

پر ہمیشہ ترجیح دیتا چلا آیا ہے۔ ہماری شاعری نوے فیصد افسردگی، اداسی اور رنج و الم سے مزیں ہے۔ کہیں فکر معاش ہے تو کہیں فکر فردا۔ رہی سہی کسر محبوب کے ہجر و وصال نے یوں پوری کر دی ہے کہ محبوب کے قدموں میں بیٹھ کر آٹھ آٹھ آنسو بہائے بنا ہمارے شاعروں کے دل کو نہ دن کا چین میسر ہے، نہ رات کا آرام۔ پھر تقدیر کے شکوے نالے سے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے بعد ظالم سماج اور رقیب روسیاہ کے رونے شروع کیے جاتے ہیں۔۔۔

باجن دے باجنتری، سوئ پڑی نہ چھیڑ

باجن دے باجنتری، سوئ پڑی نہ چھیڑ

اگر مردوں کی بنائ دنیا کو درست کرنا ہے اور عورتوں کو ان کا اصل حق دینا ہے تو سب سے پہلے زبان اور زبان درازی درست فرمائ جائے۔
فیروز اللغات سمیت اب تو اردو کی ہر لغت بھی درست کرنا پڑے گی۔
خواتین کی بے حرمتی کرتے سارے محاورے، ضرب الامثال، روزمرہ، کہاوتیں کان پکڑ پکڑ کر نکالنے ہوں گے یا نگوڑی مرد جاتی پر تھوپ دینے ہوں گے۔۔۔

بُزدل کہیں کے

بُزدل کہیں کے

بیس برس کے چوچے سے تھے جب زندگی عملی میلے میں انگلی پکڑے گھمانے لے گئی۔ کنویں کے مینڈک کے لیے حیرتیں ہی حیرتیں تھیں۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ زندگی ہر شے، ہرجذبے اور ہر رَوّیے سے متعارف کرا رہی تھی۔ اونچ نیچ اور برا بھلا بتاۓ جاتی تھی۔ سامنے کھجور اور دہکتا انگارہ رکھ کے ابرو کے اشارے سے یہ کہہ کر آزمایا : انتخاب !!!
ہم نے کوئلے سے زبان جلا لی تو زندگی نے پیٹھ تھتھپا کر کہا : ہر چیز سونا نہیں ہوتی پیارے !

خود پسندی

خود پسندی

خود پسندی ایک ایسا کتا ہےجو بھونکتا کم اور کاٹتا ذیادہ ہے۔ اس لیے اس کی موجودگی کا احساس اس شخص کو کم ہی ہوتاہے جس نے اسے پال رکھا ہو۔ کتا اپنے مالک کا کتنا ہی وفادار کیوں نہ ہو، اس کی موجودگی اپنے مالک سے ایک پاک اور حلال جانور سے دور رکھتی ہے جس کا نام خلوص ہے۔