اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/atshin-haroof

آتشیں حروف

آتشیں حروف

 

کیا راتیں ہم پر اسی طرح گزرتی رہیں گی؟ کیا زمانہ کے قدموں تلے ہم اسی طرح پامال ہوتے رہیں گے؟َ کیا قومیں ، ہمیں اس طرح اپنی تہوں میں ہمیں لپیٹتی رہیں گی، اور ہمارے نام کے سوا ، جسے وہ روشنائی کی بجائے پانی کتاب روزگار پر لکھیں گے، ہماری کوئی حفاظت نہ کریں گی؟

کیا یہ روشنی بجھ جائے گی؟ یہ محبت فنا ہو جائے گی؟ اور یہ تمنائیں مٹ جائیں گی؟

کیا موت ہر اس چیز کو ڈھا  دے گی جو ہم نے بنائی ہے؟  کیا ہوا ہر اس بات کو منتشر کر دے گی، جو ہمارے منہ سے نکلی ہے؟اور کیا تاریکی ہر اس فعل کو چ
یہی زندگی ہے ؟ کیا یہی ماضی ہے؟ جو اس طرح گزر گیا کہ اس نشانات بھی ہم سے پو شیدہ ہو گئے! کیا یہی حال  ہے ؟ جو ماضی کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا ہے! اور کیا  یہی مستقبل ہے ، جو ماضی اور حال  ہوئے بغیر بالکل بے معنی ہے؟

کیا ہمارے دل کی تمام مسرتیں اور ہمارے دل کے سارے غم  زائل  ہو جائیں گے؟ بغیر اس کے کہ ہم ان نتیجوں سے واقف ہیں؟

کیا انسان اسی طرح رہے گا؟ اس بلبلے کی مثال ، جو تھوڑی دیر کے لیے سطح سمندر پر نمودار ہو تا ہے ، لیکن جب ہوا کے جھونکے آتے ہیں تو پھوٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ گویا کبھی تھا ہی نہیں !

نہیں ! اپنی زندگی کی قسم ! کبھی نہیں !زندگی کی حقیقت زندگی ہے، وہ زندگی ، جس کا آغاز رحم مادر سے ہوتا ہے، نہ خاتمہ قبر میں۔ یہ ماہ و سال اس ازلی اور ابدی حیات کے ایک لحظہ کے سوا کچھ نہیں ! یہ دینوی زندگی! اپنے تمام متعلقات کے ساتھ ایک نیند ہے، اس بیداری کے  ہم پہلو جسے ہم ڈرائونی موت کہتے ہیں، ایک ایسا خواب ہے کہ جو کچھ ہم اس میں کرتے اور دیکھتے ہیں، وہ بقائے الہی کے ساتھ وابسطہ ہے!

فضا ، ان تمام مسکراہٹوں اور آہوں کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہیں۔اور  ان بوسوں کی آواز کو محفوظ کر لیتی ہے جس کا سرچشمہ محبت ہے۔ فرشتے آنسوئوں کے ان قطروں کو نگاہ میں رکھتے ہیں، جنہیں  غم ہماری آنکھوں سے بہاتا ہے،اور وہ نغمے ، فضائے لانہایت میں اڑنے والی روحوں کو سناتے ہیں، جنہیں فرحت ہمارے محسوسات میں پیدا کرتی ہے۔

وہاں آنے والی زندگی میں۔۔۔۔۔  ہم اپنے جذبات کی تمام موجیں اور اپنے دل کی تمام جنبشیں دیکھیں گے۔ وہاں ہم الوہیت کو پہچانیں گے جسے اب یاس و نا امیدی کے اثرات کی بنا پر حقارت سے  دیکھتے ہیں۔

گمراہی۔۔۔۔۔۔ جسے ہم آج کمزوری کے نام سے پکارتے ہیں،کل ہماری ہستی کا وہ حلقہ بن کر ظآہر ہوگی ، جو انسان کے سلسلہ زندگی کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔

مشقت۔۔۔۔۔جسے اب ہم اپنی  برداشت سے باہر سمجھتے ہیں، ہمارے ساتھ زندہ رہے گی اور ہماری عظمت و بزرگی کا باعث بنے گی۔

تکلیف۔۔۔۔۔ جو آج ہم بادل ناخواستہ سہہ رہے ہیں کل ہمارے لیے فکر کا تاج ہوگی۔

جان کیٹس۔۔۔۔ وہ بلبل خوش نوا، اگر یہ جانتا کہ اس نغمے  انسان کے دل میں ہمیشہ محبت۔۔۔۔ حسن و جمال سے محبت۔۔۔۔ کی روح پھونکتے رہیں گے تو کہتا:  میری قبر پر کنندہ کر دو:یہاں اس شخص کی ہڈیاں ہیں ، جس کا نام آسمان پر آتشیں حروف سے لکھا  گیا ہے۔

ملتے جلتے آرٹیکلز