اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/barha-din

بڑا  دن

بڑا دن

آج------ اور ہر سال آج کے دن ،انسانیت اپنی گہری نیند سے بیدا رہو کر  قوموں کی پر چھائیوں کے سامنے کھڑی  ہوتی ہے اور مسیح ناصری کو سولی پر لٹکا ہوا دیکھنے  کےلیے اپنی آنکھوں۔۔۔۔۔ اشک آلود آنکھوں ۔۔۔۔ کا مرکز  کوہ جلجلہ کو بنا لیتی ہے اور جب سورج غروب  ہونے لگتا ہے تو واپس ہوتی ہے  اور ان بتوں کے سامنے سجدہ میں گر پڑتی ہے، جو پہاڑ کے دامن یا چوٹیوں پر نصب ہیں۔

آج ایک تصور عیسائیوں کو دنیا کے گوشہ گوشہ سے کھینچ کر  بیت المقدس میں پہنچا  دیتا ہے، جہاں وہ صف باندھ کر  کھڑے ہوتے ہیں اور اس تصویر کو دیکھ کر اپنا سینہ کوٹتے ہیں  جو سر پر کانٹوں کا  تاج رکھے اور آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے موت کے پردہ سے زندگی کی گہرائیوں کو   دیکھ رہی ہے ۔۔۔ لیکن ابھی دن کے مناظر پررات اپنے سیاہ پردے ڈالنے بھی نہ پاتی کہ وہ لوٹتے ہیں اور جہالت و بے حسی کے لحافوں میں نسیان و فراموشی کے زیر سایہ سو جاتے ہیں ۔ ہر سال آج کے دن فلسفی اپنے تنگ و تاریک غاروں  مفکر اپنے بے کیف حجروں اور شاعر اپنی خیالی وادیوں کو چھوڑ کر ایک بلند پہاڑ پر خاموش و مرعوب جا کھڑے ہوتے ہیں اور اس مرد  بزرگ کی آواز پر  کان لگا دیتے ہیں، جو قاتلوں کے متعلق کہتا ہے۔

اے مقدس باپ!!! انہیں معاف کر دے کہ یہ نہیں جانتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ لیکن خاموشی ، روشنی کی آوازوں کو لپیٹنے بھی نہیں پاتی کہ وہ سب  کے سب اپنی روحوں کو پرانی کتابوں کے اوراق میں کفنا دیتے ہیں۔ 

زندگی کی مادی مسرتوں اور زیور و لباس پر جان دینے والی عورتیں آج اپنے گھر وں سے نکلتی ہیں اس غمگین عورت کو دیکھنے کےلیے جو صلیب کے سامنے اسطرح  کھڑی ہے جیسے سرمائی  آندھیوں کے سامنے نرم و نازک پودا۔ اور اس کی گہری آہوں  اور المناک سسکیوں کو سننے کے لیے اس کے پاس جاتی ہیں۔زمانے کی روح کے ساتھ بہنے والے لڑکے اور لڑکیاں جنہیں مطلق علم نہیں کہ ہم کس طرف بہہ رہے ہیں ؟ آج کے دن تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاتے ہیں اور اس نوجوان عورت ۔۔۔۔۔۔۔مریم مجدلیہ ۔۔۔۔۔ کو مڑ کر دیکھتے ہیں جو زمین و آسمان کے درمیان کھڑے ہوئے مرد کے پائوں کا خون اپنے آنسوئوں سے دھوتی ہے، لیکن جب ان کی نگاہیں اس منظر کو دیکھتے دیکھتے اکتا جاتی ہیں تو ہنستے ہوئے تیزی سے بھاگ جاتے ہیں۔

ہر سال آج کے دن  انسانیت بہار کی  بیداری کے ساتھ جاگتی ہے۔اور مسیح کی تکلیفوں پر روتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اس کے بعد اپنی آنکھیں بند کر  لیتی ہے اور پھر گہری نیند سوجاتی ہے لیکن بہار بیدار رہتی ہے اور ایک خوشگوار تبسم کے ساتھ مصروف گلشت یہاں تک کہ موسم گرما سے بدل جاتی  ہے۔  جس کا لباس زریں ہوتا ہے اور دامن معطر ۔

انسانیت وہ عورت ہے جو عظیم ترین شخصیتوں پر ماتم کرنے اور رونے پیٹنے سے خوش ہوتی ہے لیکن اگر وہ مرد ہوتی  تو ان کی عظمت و جلالت سے مسرور ہوتی۔ انسانیت   ایک  بچہ ہے جو ذبح شدہ پرندے کے پاس کھڑا  ہو کر چیخ  پکار مچاتا ہے لیکن اس خوفناک آندھی سے لرزہ براندام ہوتا ہے جو اپنے جھونکوں سے خشک ٹہنیوں کو توڑ ڈالتی اور بدبودار نجاستوں کو اڑا لے جاتی ہے۔

انسانیت مسیح ناصری کو فقیروں کی طرح  پیدا  ہوتے ، مسکینوں کی طرح زندگی بسر کرتے ، کمزوروں کی طرح تکلیف  اٹھاتے  اور مجرموں کی طرح سولی چڑھتے دیکھتی ہے اور وہ  واویلا مچاتی ہے نو حہ ماتم کرتی ہے اور یہ سب کچھ مسیح کی عزت و تکریم  کے لیے ہوتا ہے۔

1900 برس سے انسان مسیح کی شکل میں کمزوری کو پوج رہا ہے ۔ حالانکہ  مسیح قوی تھا لیکن حقیقی قوت کے مفہوم سے دنیا ناواقف ہے ۔

مسیح نے خوف و مسکینی کی زندگی بسر کی نہ درد و شکایت کے عالم میں  بلکہ انقلابیوں کی طرح زندگی گزاری، باغی کی طرح سولی چڑھا اور اہل ہمت کی طرح موت کو لبیک کہا۔مسیح شکستہ پر طائر نہیں، پرجوش آندھی تھا جس نے اپنے تند و تیز جھونکوں سے تمام خمیدہ  بازوئوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا ۔

مسیح  فضائے نیلگوں سے غم کی زندگی  کی زمز بنانے کے لیے  نہیں زندگی کو حق و آزادی کی رمز بنانے آیا  تھا۔

مسیح نہ تو  اپنے دشمنوں اور ظالموں سے خائف تھا  اور نہ اپنے قاتلوں سے دردناک  بلکہ  وہ ایک کھلا ہو ا حریت پسند تھا  جس نے ظلم و استبداد کا جرات  سے مقابلہ کیا  جہاں کہیں مکروہ پھوڑا دیکھا  نشتر لگایا  جہاں کہیں شر کو بولتے  سنا گونگا کر دیا، اور جہاں کہیں ریا کاری کو پایا فنا کی گھاٹ اتار دیا۔

مسیح نور کے اس بلند  دائرہ سے اس لئے نہیں اترا تھا کہ مکانوں کو ڈھا کر ان کی اینٹوں سے خانقاہیں اور عبادت کدہ تعمیر کرے  یا طاقت وروں کو لبھا کر  کہانت و رہبانیت کی طرف ان کی رہنمائی کرے بلکہ وہ کائنات میں ایک جدید اور قوی روح پھونکنے اترا تھا، جو مردہ کھوپڑیوں کے ڈھیر پر رکھے ہوئے تختوں کو مسمار کر دیتی ہے ، قبروں پر بنے بلندو عالی شان محلوں کو  ڈھا دیتی ہے اور مسکین و کمزور جسموں پر نصب شدہ بتوں کو پاش پاش کر ڈالتی ہے ،۔

مسیح لوگوں کو اس بات کی تعلیم دینے نہیں آیا تھا کہ انسا ن کے دل کلیسا  اس کی روح کو قربان گاہ اور اس کی عقل کو پادری بنائے ۔

یہ ہیں وہ کارنامے جو  مسیح کی ذات سے ظہور میں آئے اور  یہ ہے وہ تعلیم جس کی وجہ سے  اسے پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا گیا۔ اگر انسان ان نکتوں کو سمجھتا تو آج کے دن خوشیاں مناتا اور فتح و کامرانی کے گیت گاتا۔

اور تو، اے صاحب عظمت و جلال  مصلوب ! جو جلجلہ کی بلندیوں سے مختلف دیکھ رہا ہے ، قوموں کی چیخ و پکار سن رہا ہے ۔ اور ابدیت کے خوابوں  کی حقیقت سمجھ رہا ہے تو خون  میں لتھڑی ہوئی صلیب پر ہزاروں تختوں پر ہزار بادشاہوں سے زیادہ ہیبت و جلال  رکھتا ہے جان کنی اور موت کے درمیان ہزار معرکوں کی ہزار فوجوں کے ہزار سپہ سلار سے زیادہ بہار اور باوقار  ہے!

تو اپنے غم میں بھی گل آفریں بہار  سے زیادہ مسرور ہے تیرا دل درد کی شدت کے باوصف فرشتوں کے دل سے زیادہ پُر سکون ہے اور تو جلادوں میں گھرا ہوا ہونے کے باوجود  سورج کی  کرنوں سے آزا د ہے۔

یہ کانٹوں کا تاج جو تیرے سر پر رکھا ہے ، بہرام کے تاج سے زیادہ حسین اور قیمتی ہے ،یہ میخیں جو تیری  ہتھیلیوں میں ٹکھی ہوئی ہیں  چوگان مشتری سے زیادہ  قدر و مرتبہ رکھتی ہیں اور خون کے یہ قطرے جو تیرے قدموں پر منجمندہیں ، عشرت کی مالائو ں سے زیادہ چمکدار ہیں۔

ان کمزوروں سے باز پرس  نہ کر انہیں معاف  فرما کہ انہیں علم نہیں ، تو موت کے لیے موت سے لڑا اور مردوں کو زندگی عطا فرما گیا ۔

ملتے جلتے آرٹیکلز