اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/be-zuban-janwar

بے زبان جانور

بے زبان جانور

 

ایک دن، شام کو جب کہ میرے تصورات میری عقل پر غالب آگئے تھے، میں گھر سے نکلا اور شہر کے محلوں میں سے ہو کر گزرنے لگا۔ ایک خالی مکان کے سامنے پہنچ کر میں رک گیا، جس کی دیواریں گر چکی تھیں  اور ستون زمین پر آرہے تھے۔ مکان کی حالت سے صاف ظاہر تھا کہ وہ مدتوں سے غیر آباد ہے،اور اس پر کوئی نہ کوئی غم انگیز  تباہی نازل ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک کتا راکھ پر پڑا ہے ،جسم کمزور اور زخموں سے چور چور ہے اور بیماریوں نے اسے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا   دیا ہے۔ اس کی نگاہیں مغرب میں غروب ہوتے ہوئے سورج پر جمی ہوئی ہیں۔اس کی آنکھوں کو زلت کی پرچھائیوں نے تاریک کر دیا ہے اور  یاس و ناامیدی اس کی آنکھوں سے ٹپکی پڑی ہے۔گویا جانتا ہے کہ سورج نے اس ویران مقام سے  جو کمزور  جانوروں کو ستانے والے لڑکوں کی دسترس سے دور ہے اپنے انفاس کی حرارت واپس لینا شروع کر دی ہے۔ اسی لیے وہ اسے افسوسناک اور الوداعی نگاہوں سے دیکھ  رہا ہے۔میں آہستہ آہستہ اس کی طرف چلا، اپنے دل میں خواہش لیے ہوئے کہ  اگر میں اس کی زبان میں گفتگو کر سکتا تو  ان تکلیفوں پر اسے دلاسا دیتا اور اس مصیبت پر اس سے ہمدردی ظاہر کرتا۔ جب میں اس کے قریب پہنچا تو  اس نے مجھ سے خوفزدہ ہوکر اپنی قریب الختم  زندگی کی باقی ماندہ قوتوں کو جمع کیا ، اور کوشش کی کہ اپنی ان ٹانگوں کے سہارے وہ یہاں سے چلا جائے،جنہیں بیماری نے مفلوج کر دیا تھا اور موت ان کی حفاظت کر رہی تھی۔ لیکن وہ  اپنی جگہ سے اٹھ ہی نہ سکا اور مجھے تکنے لگا،ایسی نگاہوں سے جن میں  استرا عام کی تلخی اور کرم طلبی کی شیرینی تھی۔۔۔۔۔ ایک ایسی نگاہ سے ، جو نطق کی قائم مقام تھی، اس لیے انسان  کی زبان سے زیادہ سے زیادہ فصیح اور عورت کے آنسوئوں سے زیادہ بلیغ تھی۔

جب میری نگاہیں اس کی غمگین نگاہوں سے ملیں تو میرے جذبات میں حرکت پیدا ہوئی اور  احساسات بیدارہوگئے۔ میں نے ان نگاہوں کو مجسم کیا اور انسانی کلام  کا جامہ پہنا دیا۔ وہ نگاہیں کہہ رہی تھیں: 

مجھ پر جو کچھ بیت رہی ہے وہی میرے لیے کافی ہے! میں نے انسان کے جتنے مظالم برداشت کئے ہیں اور بیماریوں کی جتنی تکلیفیں جھیلی ہیں۔ وہی میرے لیے بہت ہیں۔جائو! مجھ پر اور میرے سکون پر رحم کرو!  مجھے سورج کی حرارت سے زندگی کے کچھ لمحے حاصل کرنے دو!  میں ابن آدم کے  ظلم اور سنگدلی سے بھاگ کر  اس راکھ کے ڈھیر پر آپڑا ہوں، جو اس کے دل سے نرم ہے، اس ویرانے میں آ چھپا ہوں، جو وحشت ناکی میں اس سے کہیں کم ہے۔

میرے پاس سے چلے جائو! کہ تم بھی زمین کے انہیں  رہنے بسنے والوں میں سے ہو،جن کے فیصلے ادھورے اور انصاف سے عاری ہوتے ہیں۔

میں ایک حقیر جانور ہوں ، لیکن میں نے انسان کی خدمت کی ہے۔اس کے گھر میں ایک مخلص وفادار کی طرح رہاہوں،اس کی رفاقت میں ، میں نے حفاظت  اور جاسوسی کے فرائض انجام دیے ہیں۔ میں اسکے غم اور خوشی میں برابر کا شریک رہا، اس کی غیر موجودگی میں اسے یاد کرتا اور اس کی آمد پر خوشی سے پھولے نہ سماتا۔ میں نے اس کے دستر خوان  کے ٹکڑوں پر قناعت کی اور  اسکی چھوڑی ہوئی ہڈیوں  کو اپنے لیے نعمت سمجھا۔لیکن جب میں بوڑھا ہوگیا ،بیماریوں نے میرے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیے تو اس نے مجھے نکال باہر کیا اور گلی کوچوں کے لڑکوں کا کھلونا اور بیماریوں کے تیروں کا نشانہ اور ہر قسم کی غلاظت کا مرکز بنا دیا۔

اے آدم کے بیٹے ! میں ایک کمزور جانور ہوں ، لیکن مجھ میں تیرے ان بہت سے کمزور بھائیوں میں ایک نسبت ہے جس کی قوتیں جواب  دے جاتی ہیں تو روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو مختاج ہو جاتے ہیں  اور تباہ حالی کے گڑھے میں گر پڑتے ہیں۔

میں ان سپاہیوں کی مثال ہوں ، جو اپنی جوانی میں اپنے وطن کی طرف سے لڑے ہیں اور ادھیڑ عمر میں کھیتی باڑی کرتے ہیں،لیکن جب زندگی کا سرمائی  موسم شروع ہو جاتا ہے اور  ان کے ہاتھ پائوں بے کار ہو جاتے ہیں تو انہیں دھکے دیے جاتے ہیں ، انہیں بھلا دیا جاتا ہے!!۔۔۔

میں اس عورت کی طرح ہو ں، جو اپنی جوانی کو  جوان دل کی تفریح کے لیے بناتی سنوارتی ہے، بیوی بن کر بچوں کو پالنے کے لیے رات رات بھر جاگتی ہے۔ پختہ عمر کی عورت ہو کر ،مردان مستقبل تیار کرنے کے لیے مصیبتیں  اور تکلیفیں اٹھاتی ہے۔ لیکن جب بوڑھی ہو جاتی ہے تو مکروہ چیز سمجھ کر فراموش کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ آہ! اے انسان!!! تو  کتنا ظالم ہےاور کس قدر سنگدل!!

اس جانور۔۔۔۔ کتے۔۔۔۔۔ کی نگاہیں کلام کر رہیں تھیں اور میرا دل سمجھ رہا تھا۔ میرے ذہین کا یہ عالم تھا کہ کبھی تو اس بے زبان جانور پر ترس کھاتا تھا اور کبھی اپنے ابنائے جنس کے خوفناک تصور سے لرز اٹھتا تھا۔

جب اس کتے نے اپنی آنکھیں بند کر لیں  تو میں نے اسے پریشان کرنا مناسب نہ سمجھااور وہاں سے چلا آیا۔۔۔۔۔

ملتے جلتے آرٹیکلز