اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/bewa-ki-dua

بیوہ کی دعا

بیوہ کی دعا

 

دن پر غالب آنے کے لیے ، جس میں وادی قادسیا    کے آس پاس کے گائوں میں مسلسل برف باری ہوتی رہتی تھی، رات نے نہایت تیزی سے  حملہ  کر دیا اور کھیتوں اور پہاڑیوں کو ایک  سفید سادہ صفحہ بنا دیا، جس پر ہوا پہلے کچھ  لکھتی اور پھر مٹا دیتی ،جس سے آندھیوں کے جھکڑ غضب ناک فضا  کو دہشت اگیز فطرت سے آمیز کرتے ہوئے کھیل رہے تھے۔

انسان مکانوں میں جا چھپے تھے، اور مویشی باڑوں میں ہر ذی حیات و حرکت و عمل سے عاجز تھا اور خلش آفریں سردی ، بے پناہ خیلی ، خوفناک و سیاہ رات اور ہولناک و طاقتور موت کے کچھ  باقی نہ رہا  تھا۔

گائوں  کی آبادی سے الگ ایک تنہا مکان میں ایک عورت انگیٹھی کے سامنے بیٹھی ہوئی چادر بن رہی تھی، پہلوں میں اس کا چھوٹا بچہ تھا  جو آگ کے شعلوں کو دیکھتا تھا  اور کبھی اپنی ماں کے پر سکوں چہرے کو ، یکایک آندھی تیز ہوگئی  اور مکان کے درو دیوار لرزنے لگے ۔بچہ ڈر کر ماں کے اور قریب ہوگیا،تاکہ اس کی آغوش شفقت میں عناصر کی غضب ناکی سے محفوظ ہو جائے ماں نے اسے اپنے سینے سے چمٹا کر پیار کیا اور اپنے گھٹنوں پر بٹھا کر کہنے لگی:بیٹا! ڈرو نہیں ! فطرت انسان کو اس کی بے بضاعتی کے مقابلہ میں اپنی عظمت  اور اس کی کمزوری کے مقابلے میں  اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے  نصیحت کرنا چاہتی ہے۔ نہ ڈر! میرے بچے ! کہ زمین پر گرتی ہوئی برف آسمان پر چھائے ہوئے  بادلوں اور فضا کو تلپٹ کر  دینے والی آندھی کے جھکڑوں کے  پس پردہ ایک عام اور برگزیدہ روح ہے۔جو میدانوں اور پہاڑوں کی ضروریات کو جانتی ہے، ہر چیز کے پس پردہ ایک روزن ہے، جس میں یہ روح انسان کی بے بضاعتی کو بہ نگاہ رحمت و شفقت دیکھتی ہے۔  خوف نہ کھا! میرے کلیجہ کے ٹکڑے! کہ فطرت جو پہاڑ میں  مسکراتی ،گرمیوں میں قہقہے لگاتی اور خزاں میں آہیں بھرتی ہے، اب رونا چاہتی ہے تاکہ  زمین کے انتہائی طبقہ میں پڑی ہوئی  زندگی اس کے سرد آنسوئوں سے اپنی پیاس بجھائے۔

میرے بچے! سو جا! کل جب تو بیدار ہوگا تو  آسمان کو صاف اور میدانوں کو   برف کی سفید چادر اوڑھے دیکھے گا۔جس طرح موت سے مقابلے کے بعد روح پاکیزگی کا لباس پہن لیتی ہے۔ سوجا!  میرے بچے تیرا باپ اس وقت ہمیں ہدایت کی نزہت گاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ مبارک ہے وہ آندھی اور وہ برفباری جو ہمیں  ان غیر فانی روحوں سے ہم آغوش کر دے! میرے پیارے سوچا! بہار آنے پر تو انہیں عناصر سے جو آج نہایت شدت سے  آپس میں دست و گریباں ہیں  بہار می پھول توڑے گا،جس طرح انسان الم ناک دوری حوصلہ فر ساصبر   اور ہلاکت خیز مایوسی کے بعد محبت کا پھل پاتا ہے۔میری آنکھوں کے نور! سو جا!  کہ شیریں خواب رات کی ہیبت اور سردی کی شدت سے بے خوف ہو کر تجھ تک آئیں گے۔

بچے نے اپنی ماں کی طرف دیکھا ،نیند نے اس کی آنکھوں کو سرمگیں بنا دیا تھا وہ کہنے لگا: اماں نیند نے میری پلکوں کو بوجھل بنا دیا ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں صبح کی نماز پڑھنے سے پہلے ہی نہ سوجائوں۔

مہربان ماں نے اسے   اپنے گلے سے لگایا اور اشک آلود نظروں سے اسے دیکھنے لگی، جس پر فرشتوں کی معصومیت کھیل رہی تھی، اس نے کہا:

میرے بچے! میرے ساتھ دعا مانگ: یارب! فقیروں پر رحم کر! انہیں بے پناہ سردی کی سنگدلی سے بچا! ان کے عریاں جسموں کو اپنے  ہاتھوں سے ڈھانپ!

جھونپڑیوں میں سوئے ہوئے یتیموں اور برف کی تیرافگتی کو دیکھ! جو ان کے جسموں کو چھیدے ڈالتی ہے!

یارب! بیوائوں کی فریاد سن! جو سڑکوں پر موت کے چنگل اور سردی کے پنجوں   میں گھری کھڑی ہیں۔

یارب! اپنا  ہاتھ سرمایہ دار کے دل کی طرف بڑھا ، اور ان کے چشم بصیرت کو وا کر ! تاکہ  وہ کمزوروں اور مظلوموں کی تباہ حالی دیکھ سکیں !

یارب! ان بھوکوں پر مہربانی فرما! جو اس تیر وتار رات میں دروازوں کے سامنے کھڑے ہیں،اور پردیسیوں کی غریب الوطنی پر رحم کھا کر  گرم مسکنوں کی طرف ان کی رہنمائی کر!

یا رب! چھوٹی چھوٹی چڑیوں کی طرف دیکھ! اور اپنے دائیں ہاتھ سے ان درختوں کی حفاظت کر! جو ہوا کی تندہی سے خائف ہیں۔

یارب! ایسا کر، کہ تجھ میں سب قدرت ہے!۔

جب نیند بچے سے ہم آغوش ہوگئی تو ماں نے اسے اس کے بستر پر لٹا دیااور کانپتے ہونٹوں سے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔اس کے بعد اٹھی اور انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر اس کے لئے اونی چادر بُننے لگی۔

ملتے جلتے آرٹیکلز