اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/bnafsha-ka-phol

بنفشہ کا پھول

بنفشہ کا پھول

 

خیابان چمن میں ایک نظر فریب ، اور خوشبودار بنفشہ کا پھول تھا،جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سکون و اطمینان کی زندگی بسر کر رہاتھا۔اور لمبی لمبی گھاس کے حلقے میں لہرا رہا تھا،ایک دن صبح کو جبکہ اس کے سر پر شبنم کا تاج رکھا تھا،اس نے سر اٹھا کر ادھر دیکھا، اس کی نگاہ  ایک نازک اندام اور خوش قامت گلاب کے پھول پر پڑی۔ اس کا سر  پُر غرور اس طرح بلند تھا، گویا ، زمردیں چراغ دان پر آگ کا شعلہ لرز رہا ہے۔

بنفشہ کے پھول نے اپنے نیلکگوں ہونٹ وا کئے اور اور سعد آہ بھر کر کہنے لگا:نباتی  خشبوئوں میں میرا حصہ کتنا کم اور پھولوں میں میرا درجہ کس قدر پست ہے۔ فطرت نے مجھے حقیر و زلیل بنا کر پیدا کیا ہے۔تاکہ میں زمین سے چمٹے چمٹے اپنی عمر گزار دوں،میں اپنا سر نیلگوں آسمان کی طرف اٹھا سکتا ہوں ، نہ اپنا رخ گلاب کے پھول کی طرح سورج کی طرف کر سکتا ہوں۔ 

گلاب کے پھول نے اپنے پڑوسی بنفشہ کے پھول کی بات سنی اور قہقہہ مار کے کہنے لگا: تو بھی پھولوں میں کتنا مورکھ ہے، جو نعمت تجھے حاصل ہے، افسوس کے  تو اس کی قدر و قیمت سے واقف نہیں۔تجھے فطرت نے وہ خوشبو ، وہ حسن اور دلکشی عطا فرمائی ہے جس سے اکثر پھول محروم ہیں۔اپنے دل کو ان  نا محمود خیالوں اور شیطانی آرزوئوں سے پاک رکھ اور اپنی تقدیر پر شاکر رہ، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ جس کسی نے اپنے بازوئوں کو نیچے کر لیا،گویا اپنے مرتبے کو بڑھا لیا، اوف جس کسی نے حرص و طمع کی،گویا نقصان کو دعوت دی۔

بنفشہ کے پھول نے جواب دیا: میاں گلاب! تم تسلی دے رہے ہو اس لیے کہ تمہیں وہ تما امتیازات حاصل ہیں  جن کی مجھے آرزو ہے۔ تم تحکمانہ لہجے میں میری احساس کمتری کو  دور کرنا چا رہے ہو، اس لئے تم بلند  مرتبہ ہو۔لیکن بد نصیب دلوں پر  کامیابی و کامرانی  کی نصیحتیں  کیا اثر کر سکتی ہیں؟ اف! کس قدر  سنگدل ہے وہ طاقت ور ، جو کمزوروں میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہا ئے!

فطرت نے گلاب اور بنفشہ کے پھولوں کی گفتگو سنی اور متعجب ہو کر انگڑائی لی۔پھر  ذرا بلند آواز میں  بولی:

میرے پیارے بنفشہ کے پھول یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں تو تمہیں تمہاری عا جزی کی بنا پر دلکش، نرمی و نزاکت کی بنا  پر شیریں اور غریب بیچارگی کی بنا پر شریف سمجھتی تھی، کیا مکروہ خوابوں نے تمہیں بھی گمراہ کر دیا ہے؟عظمت نے تمہاری عقل بھی چھین لی ہے؟

بنفشہ نے آرزو مندانہ لہجے میں کہا: اے عظمت و جبروت کی دیوی ! اے شفیق  و مہربان ماں !  میں اپنے دل کی تمام آرزوئوں اور اپنی روح کی تمام آرزوئوں اور اپنی روح کی تمام امیدوں کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تو میری التجا قبول کر لے، اور  مجھے خواہ ایک ہی دن کے لیے سہی ،لیکن گلاب کا پھول بنا دے۔

فطرت نے غصہ سے جواب دیا: تو نہیں جانتا کہ تو کیا مانگ رہا ہے، اور ظاہری عظمت میں کتنی بلائیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔اگر میں نے تیرا قد بلند کر دیا اور تیری صورت بدل کر  تجھے گلاب کا پھول بنا دیا ، تو اس وقت تجھے ندامت ہو گی ، بے سود ندامت!۔

بنفشہ نے کہا: میرے بنفشی وجود کو کشیدہ قامت اور بلند سر گلاب کے پھول  سے بدل دے،  اس کے بعد جو کچھ ہوگا اس کی ذمہ داری تجھ پر نہیں ، میری حرص و طمع  پر ہوگی۔

فطرت نے جواب دیا: اے نادان! سرکش بنفشہ! میں نے تیری التجا قبول کی ،لیکن اگر مشکلات و مصائب  تجھے گھیر لیں تو اس کی شکایت مجھ سے نہیں اپنی ذات سے کرنا۔

فطرت نے اپنی مخفی و سحر کار انگلیوں سے بنفشہ کی پتیوں کو مس کیا اور چشم زدن میں اسے ایک خوش رنگ گلاب بنا دیا۔  جو تمام پھولوں سے بلند تھا۔

دن ڈھلتے ، فضا پر طوفان خیز سیاہ بادل چھا گئے، سکون ہستی میں ہیجکان پیدا ہوا، بجلی چمکنے لگی بادل گرجنے لگے، اور بادو باراں کا لشکر جرار  باغوں اور چمن زاروں سے آمادہ پیکار ہو گیا۔ شاخیں ٹوٹ کر گرنیں لگیں۔ بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑنے لگے، سربلند پھول طوفان کے تھپیڑوں سے مٹی میں مل گئے۔اور ان بیلوں اور پھولوں کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہی جو زمین کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے یا چٹانوں میں پوشیدہ تھے۔

لیکن عناصر کے اس ہیجان نے دوسرے باغوں کو اتنا تباہ و برباد نہیں کیا، جتنا اس چمن  کو جس میں مادر فطرت نے بنفشہ کے پھول کو گلاب کا پھول بنایا تھا۔

چنانچہ جب طوفان فرو ہوا اور بادل چھٹے تو اس کے تمام پھول منتشر  ذرات کی طرح ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے۔ اور اس طوفان خیز ہنگامہ کے بعد کوئی چیز صحیح و سلامت نہ رہی تھی،سوائے بنفشہ کے ان پھولوں کے جو چمکنی دیوار وں تلے روپوش تھے۔

بنفشہ کے ایک نو شگفتہ پھول نے سر اٹھا کر  دیکھا کہ چمن کے پھولوں اور درختوں پر کیا بیتیَ؟ وہ خوشی سے مسکرایا اور اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر کہنے لگا: دیکھو! آندھی نے ان  پھولوں کا کیا خشر کر دیا، جو فخر و غرور کے ساتھ سر اونچا کئے  کھڑے تھے۔

دوسرے بنفشہ کے پھول نے کہا: ہر چند کے ہم زمین پر پڑے ہیں لیکن آندھی اور طافان کے غیظ و غضب سے  محفوظ ہیں۔ 

تیسرا بنفشہ کا پھول بولا: یہ صحیح  ہے کہ ہمارے جسم بہت  حقیر ہیں لیکن تباہیاں ہم پر غا لب نہیں آسکتیں۔اس وقت بنفشہ کے پھولوں کے بادشاہ نے نگاہ اٹھائی اور دیکھا، اس کے پاس وہ گلاب کا پھول پڑا ہے جو کل تک بنفشہ کا پھول تھا۔طوفان نے اسے شاخ سے اکھاڑ پھینکا تھا، آندھی کے تھپیڑوں نے اس کی پتی پتی الگ کر دی ہے۔ اور اب وہ غم آلود گھاس  پر اس  طرح پڑا ہے ، جیسے کسی مقتول  کے سینہ میں  دشمن کا تیر پیوست ہو گیا ہو۔

بادشاہ نے اپنا سر اونچا کیا، اس کی پتیاں ذرا پھیلیں  اور اس نے اپنے ساتھیوں سے بلند آواز میں کہا:دیکھو! اس بنفشہ کے پھول کو دیکھو! جس نے لالچ میں آکر گلاب کے پھول کا لباس پہن لیا تھا،تاکہ تھوڑی سی دیر کے لیے سربلندی حاصل کر سکے،  اور ہمیشہ کے لیے پستی میں گر جائے،  یہ منظر تمہارے لیے عبرت کا منظر ہے۔ 

یہ سن کر گلاب کا پھول جو اس وقت جانکنی کے عالم  میں تھا، مارے غصے کے لرز اٹھا، اس نے اپنی بچی کھچی قوتیں جمع  کیں اور رک رک کر کہنے لگا:

سنو! ااے کم حوصلہ! بے وقوفو!ً سنو، اے طوفان باد و باراں سے لرزا براندم ہونے والو! کل تک میں تمہاری طرح سبز پتوں میں بیٹھا تقدیر پر قانع تھا۔اور یہ قناعت ایک دیوار خآئل تھی،  جو مجھے زندگی کے طوفانوں اور ہنگاموں سے الگ رکھتی تھی، جس نے میرے وجود کو راحت و سکون کے نشے میں سرشار کر کے  امن و سلامتی کے حلقہ میں گھیر رکھا تھا، میرے امکان میں تھا کہ میں اسی طرح زمین پر مڑے مڑے زندگی گزار دیتا ،یہاں تک کہ موسم سرما اپنی برف باریوں  سے مجھ پر چھا جاتا، اور میں بھی اپنے پیش رو پھولوں کی طرح موت کی  بستی میں چلا جاتا،۔

نیستی کی تاریکیوں میں گم ہو جاتا ،اس سے پہلے کہ میں ہستی کے اسرار و رموز کو جانچتا، جو سطح زمین پر نمودار ہونے کے بعد سے بنفشہ کے پھولوں نے اختیار کر رکھا ہے۔

ہاں! میرے امکان میں تھا کہ میں لالچ سے اپنا دامن پاک رکھتا اور ان چیزوں سے پرہیز کرتا ،جو اپنی فطرت کے پیش نظر میری فطرت سے بلند ہیں، لیکن میں نے رات کی خاموشی پر کان لگائے اور عالم قدس کو اس عالم سے کہتے سنا: 

وجود کی غایت ہی یہ ہے، کہ ماورائے وجود کے لیے جدوجہد کی جائے

یہ سن کر میری روح میرے خلاف آمادہ بغاوت  ہوگئی، اور میرا وجدان اس مقام کے لیے تڑپنے لگا، جو س سے کہیں بلند تھا۔ میری روح بغاوت کرتی رہی، اور میں اس بلند مقام کے لیے تڑپتا رہا، یہاں تک کے میری سرکشی ایک فعال قوت سے بدل گئی۔ اور میرا شوق ایک غلاق ارادے سے۔ چنانچہ میں نے فطرت سے درخواست کی۔۔۔۔۔۔ اور فطرت ہمارے پوشیدہ خیالات کے خارجی مظاہرہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ۔۔۔۔ کہ مجھے گلاب کا پھول بنا دے اورت اس نے میری درخواست قبول کر لی۔ 

یہ کوئی نئی بات نہ تھی بار بار دیکھنے میں آیا ہے کہ   فطرت نے اپنے آثار و نقوش اپنے ہاتھوں سے بدل کر رکھ دیے ہیں۔ 

گلاب کا پھول تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔اس کے بعد فخر و امتیاز کے لہجے میں بولا:وہ ایک ساعت جو میں نے گلاب کے پھول کی جنبیت کے ساتھ گزاری ہے،درحقیقت ایک بادشاہ کی طرح گزاری ہے، میں نے کائنات کو گلاب کی آنکھ سے دیکھا ہے،ایتھر کی سرگوشیوں کو گلاب کے کانوں سے سنا ہے،اور اور نور کے دامن کو گلاب کی پتیوں سے چھوا ہے۔ تم میں سے کوئی ہے جو  اس شرف و امتیاز   میں میری ہمسری کا دعوی کرے؟

اس کی گردن جھک گئی اور اس نے ایسی آواز میں جس سے موت کا شدید کرب ظاہر ہوتا تھا،کہا: میں اب مر رہا ہوں، مر رہا ہوں، اور میری روح میں وہ کیفیت ہے جو  مجھ سے پہلے کسی بنفشہ کے پھول میں نہ تھی،مجھے وہ تمام حقیقتیں معلوم ہیں جو اس محدود دائرہ کے پیچھے آسودہ ہیں،جس میں میں پیدا ہوا  تھا، اور یہی زندگی کا مقصد ہے۔ ہاں ! یہی وہ جوہر ہے جو شب و روز کے پردہ میں روپوش ہے۔

گلاب کی پتیاں مرجھا گئیں، اس میں قدرے لرزش پیدا ہوئی اور وہ مر گیا۔ اس کے چہرے پر مقدس تبسم کھیل رہا تھا۔ اس ہستی کا تبسم جس نے بلند آرزئوں  سے زندگی کی تصدیق کر دی۔ فتح و کامرانی کا تبسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خداوندی تبسم!!!!!!

ملتے جلتے آرٹیکلز