اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/dewar-e-gareya

dewar-e-gareya

دیوارِ گریہ

مال بردار بحری جہاز کے عرشے کے غلیظ اور چکنے فرش پر تیل سے لتھڑے ہوئے موٹے رسوں کے بڑے سے بنڈل پر میں اور برائن بیٹھے تھے۔ گو کہ اس وقت ہم تھکے ماندے اور ساری دنیا سے بدظن تھے مگر حیرت سے ستاروں بھرے آسمان کو دیکھے جاتے تھے۔ ایک دوسرے سے منہ موڑے ہوئے کہ یوں مشقت کا احساس بڑھتا نہیں۔ ہم اپنے اپنے سگریٹ بے دریغ پھونک رہے تھے۔ اس سمے یہ واحد عیاشی تھی۔ ۔ ۔کڑوے کسیلے دھویں کی عیاشی۔
اکتوبر کی خنکی ‛ شب کے اولین پہر کی چاندنی اور بپھرا ہوا سمندر۔ جہاز کسی زخم کھائے سہمے ہوئے کتے کی مانند سوئے منزل رواں دواں تھا ۔ ۔ ۔ اور منزل تھی گوئٹے مالا ۔۔۔ جوکہ دو دن کی مسافت پر واقع تھی۔ بادِ بحری کی بیزارکن نمی سے جسم چپچپے ہوریے تھے۔ میرے سر کے بال کالے تیل اور ہاتھ انجن کی صفائی کی بدولت جلی ہوئی گریس سے آلودہ تھے جبکہ جوتوں میں پسینے اور نمی سے بھیگی ہوئی بدبودار جرابیں تھیں۔ کئی دن سے شیو نہ بنانے کے کارن داڑھی کے بال کھردرے ‛ بے ہنگم اور سیہہ کے کانٹوں کی طرح کھڑے تھے۔
دفعتاً برائن نے بولنا شروع کیا تو باوجود اس کے کہ وہ مجھ سے منہ پھیرے ہوئے تھا مگر اس کی آنکھوں میں جو ایک دائمی سی اداسی اور ہر لفظ کے ساتھ جو نمایاں سی سسکی نما آواز منہ سے خارج ہوتی ۔۔۔ مجھے بخوبی محسوس ہوتی تھی۔ میں دل گرفتگی کے احساس سمیت ہمہ تن گوش تھا۔
برائن نے کہا : "میں ثابت کر سکتا ہوں۔ "
"کیا ؟" میں نے چاند کے روشن پن کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"یہی کہ دنیا میں سب کچھ برا ہی نہیں ہوتا۔ کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔"
"ہوسکتا ہے ۔ ۔ ۔ "
"تمھیں ماننا ہی پڑے گا خالد ۔ ۔ ۔!"
"بھٸ مان لیا  ۔۔۔ !" میں بحث کے موڈ میں نہیں تھا اور ویسے بھی وہ ایک کھرا انسان تھا۔
"تمہیں یہ تو بتا ہی چکا ہوں کہ میں ایک غریب گھرانے کا فرد ہوں ..."
"ہاں کئی بار بتا چکے ۔۔۔ جو کچھ بھی کہنا ہے بلا توقف کہو برائن۔۔۔تجسس مت پیدا کرو۔"
"اس سناٹے اور چاندنی کی قسم ۔۔۔ شہر کے مضافات میں ہمارا چھوٹا سا گھر موسم سرما کی بے پناہ برف باری میں تقریباً کھو سا جاتا تھا۔ اس سنگین موسم میں موت کے بھیانک سائے ہمارے ارد گرد منڈلانے لگتے تو خوراک کے ایک معمولی سے ذرے کی توقیر اورقیمت کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ تمہیں اندازہ نہیں موت کے مقابل چند بھوکے ‛نادار اور ناتواں انسانوں کی بقا کے لیے جدوجہد کا۔ ایک دفعہ ایسے ہی موسم میں ہمارے پاس خوراک بہت کم رہ گئی۔ ۔ ۔ بہت ہی کم۔ ماں میرے لیے دودھ کا ایک گلاس لائی اور نہایت ملائمت سے کہ جو اس کا شیوہ ہے ‛ مجھے تاکید کی کہ میں پی لوں ... لیکن مجھے شک گزرا کہ ماں نے خود کچھ بھی نہیں کھایا ... تو میں نے پوچھ لیا اپنی ماں سے ... سنتے ہو ؟"
"بولتے رہو برائن ۔۔۔ رکو مت !" درد سے دُکھتے ہوئے لفظ میرے لبوں سے نکلے۔
"پوچھا اس لیے کہ مجھے گھر میں موجود خوراک کی مقدار کا خوب اندازہ تھا۔۔۔" برائن نے بات جاری رکھی :" دراصل خالد ۔۔۔ وقت جب کڑا ہو تو آگہی کا کرب کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے ۔۔۔ اور یہ جو مائیں ہوتی ہیں ۔۔۔ یہ اپنی اولاد سے کبھی کبھی پورا سچ نہیں کہتیں۔ اس وقت ماں کے چہرے پر غضب کا سکون تھا۔ یقیناً ایثار اور اپنی بھوک پر ضبط کا سکون۔ ماں نے یونہی اثبات میں سر ہلا دیا اور کہا کہ وہ کھانا کھا چکی ہے ۔۔۔ اور پھر میری تسلی کو نام نہاد بھرے پیٹ کی ایک ڈکار بھی لی۔۔۔ لیکن ماں جھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔ دنیا کا سب سے سچا جھوٹ ۔۔۔ بتاؤ اگر میں اصرار کرتا تو کیا ماں وہ دودھ پی لیتی ؟"
"کبھی نہیں ۔۔۔" میری آواز رندھ گئی۔ " پھر وہ ماں تو نہ ہوئی ۔ ۔ ۔ "
"درست ۔۔۔ " برائن کی آواز جذبے کی شدت سے تھرتھرا گئی۔ "ایسی ہی ہوا کرتی ہیں مائیں۔ مہربان ‛ رحم دل اور وفا پیشہ ۔۔۔ اس دن ماں کے اس ایثار میں گندھے ہوئے سچے جھوٹ نے مجھے ایک سبق دیا کہ ہمیشہ اپنی ضرورت کو دوسرے کی ضرورت پر فوقیت دینی چاہیے۔ یوں جو ایک لافانی مسرت ملتی ہے‛ وہ انسان کو کبھی غریب نہیں ہونے دیتی۔ غربت ‛ وسائل یا آسائشات سے محرومی کا نام نہیں بلکہ جذبۂ خدمت اور قربانی کے فقدان کو غربت کہا جاتا ہے۔ ایک سگریٹ دینا پلیز ۔۔۔ میرے تو گئے ۔"
اس نے سلگتے سگریٹ کاایک طویل کش لیا اور بولا : "سیڑھیوں کے نیچے جو سٹور تھا اس میں ہماری پالتو کتیا نے بچے جنمے تھے۔ کتیا بھوکی تھی اور جب کوئی جانور بھوکا ہو تو اس کی درد بھری کراہوں کو صرف اس کا مالک ہی سمجھتا ہے۔۔۔اور اس بے رحم کیفیت میں جانور کی خوشامد بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اس دن کتیا میرے کیچڑ سے آلودہ جوتے چاٹتی رہی تھی اور آخرکار مایوس ہو کر اپنے نو مولود بچوں کے پاس چلی گئی تھی۔ تو ماں جونہی کمرے سے نکلی تو میں نے دودھ کا وہ گلاس اٹھایا اور سٹور میں جاکر کتیا کو پلا دیا ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ مجھ سے زیادہ وہی مستحق تھی۔ وہ میری نیکی کا عملی آغاز تھا۔ دنیا میں سب کچھ برا ہی نہیں ہوتا۔"
"تمہیں ماں یاد آتی ہے برائن ؟" کتنا فضول سا سوال تھا میرا۔ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات تھی۔
"ہاں۔۔۔ بہت زیادہ۔" اس نے تڑپ کر جواب دیا۔
"میری عزیز ماں جو ساری دنیا میں صرف میری واپسی کے دن گن رہی ہوگی۔"
اور یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے کہ برائن رو رہا تھا اور میں نہ دیکھنے کے باوجود دیکھ رہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں نمی نہ تھی البتہ وہ چمک جو بہادروں کی سونتی ہوئی تلواروں میں ہوتی ہے۔
"میں وہ دن کبھی نہیں بھلا سکتا ۔۔۔ !"
"کون سے دن ؟" میں نے قریب الختم سگریٹ کو اپنے جوتے کی ایڑی تلے رگڑتے ہوئے پوچھا۔
"جب ماں ہمیں ہر ہفتے کی شام ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد دیوارِ برلن کے پاس لے جاتی ۔ ایک بلند چبوترے پر چڑھ کر وہ دیوار کی مغربی جانب نگاہیں جما دیتی۔ میں اور میری چھوٹی بہن ایستھر ‛دونوں ماں کی بے کراں محویت کے احترام میں سانس بھی ازحد احتیاط سے لیتے کہ کہیں اس کی توجہ نہ ٹوٹ جائے۔ یکسوئی کے اس عالم میں وقت ٹھہر سا جاتا اور جب بہت دیر بعد ماں اپنی نظر سمیٹ کر ہمیں دیکھتی تو ہم مچل کر اس کے مامون دامن سے چمٹ جایا کرتے۔ ماں کی مشفق ہاتھ کی لرزیدہ انگلیاں ہمارے سنورے ہوئے بالوں کو سہلانے لگتیں اور ہم اس ہستی کو دیکھتے جس کی آنکھوں میں دنیا کا سب سے قیمتی پانی چھلک رہا ہوتا۔ وہ بہت دھیرج سے ٹھوس اور مصمّم لہجے میں کہتی جاتی ۔۔۔"آخر کب تک؟۔۔۔ کبھی تو جبر کی اس علامت کو گرنا ہوگا"
"کیوں کہتی تھیں وہ یہ سب برائن؟" میں تجسس کے زیرِ اثر پوچھا بیٹھا۔
"اس لیے کہ ۔۔۔" برائن ذرا سا رکا اور پھر بولا:"میرے باپ کی قبر دیوار کی مغربی طرف ہے۔"
"اوہ۔۔۔ افسوس۔۔۔ تو پھر ؟"
"ماں بہت سے پھول اپنے لرزتے ہاتھوں سے دیوار کی دوسری سمت اچھال دیتی۔۔۔ اور ہم بوجھل قدم اور خالی پیٹ لیے واپس گھر لوٹ جاتے ۔"
خاموشی کا وہ وقفہ نہایت جان توڑ تھا۔
"برائن ۔۔۔ !!!" میں نے ہمدردانہ جذبے کے تحت اسے پکارا۔
"کیا ہے؟"
"کیا ماں اب بھی جاتی ہوں گی ؟ اس چبوترے تک ۔ ۔ ۔ جو دیوار کے اِدھر ہے اور پھول اب بھی گرتے ہونگے اس قبر پر جو دیوار کے اُدھر ہے ؟ ۔۔۔ دو سال سے گھر بھی نہیں گئے تم ۔۔۔ کیوں ؟ ۔۔۔ اور تمہاری چھوٹی بہن۔۔۔کیا نام ہے۔۔۔ ہاں۔۔۔ایستھر۔۔۔وہ کہاں ہے ؟" اتنے بہت سارے سوال پوچھے تو برائن تڑپ کر اٹھ کھڑا ہوا اور میں نے پانچ سالہ رفاقت میں اسے پہلی بار روتے ہوئے دیکھا۔ میں بھی اٹھا اور اس کے بہتے آنسو پونچھنا چاہے لیکن کمال نرمی سے اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ وہ خاموش تھا اور اس کی آنکھوں میں ہنوز بہت سے آنسو تھے۔
"ہوسکتا ہے وہ دیوار اب تک گِر چکی ہو ۔۔۔ معلوم تو کرو ۔۔۔ "
"نہیں ۔۔۔ "
"کیوں برائن ۔ ۔ ۔؟"
"زیادہ سوال مت پوچھو ۔۔۔ " اس نے پلٹ کر عرشے پر پڑے موٹے تیل زدہ رسوں کے بنڈل کو ناراضی سے ٹھوکر ماری اور ادھ جلے سگریٹ کو سمندر کی طرف اچھال دیا۔ تیزہوا کی وجہ سے ننھی ننھی چنگاریاں سی اُڑیں جیسے جگنوؤں کا دستہ بکھر جائے۔

پھر یوں ہُوا کہ تین سال کوئی سوال پوچھے بغیر گزر گئے۔
برائن کی یاد کبھی کبھار ہی آتی تھی مگر جب بھی آتی تو پیٹ میں ایسی اینٹھن محسوس ہوتی جو بے رحم برفانی موسم میں بھوک سے پیدا ہوا کرتی ہے۔
شام کا وقت تھا۔ میں لان میں بیٹھا اخبار کی بچی کھچی خبریں پڑھ رہا تھا کہ نظر اچانک ایک شہ سرخی پر ٹھہر گئی :
‛دیوار برلن گرا دی گئی‛
میں دیوانہ وار اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف لپکا تاکہ برائن کو مبارک باد کا ایک زبردست سا خط لکھوں۔ خط تو لکھ ڈالا ۔۔۔ تاہم اگلی صبح تک مجھے یاد ہی نہ رہا کہ اسے سپردِ ڈاک بھی کرنا ہے۔ مصروفیات کچھ ایسی آڑے آئیں کہ خط کی طرف دوبارہ خیال ہی نہ گیا۔
کوئی ہفتہ بھر بعد دفتر سے تھکا ہارا شام کو گھر پہنچا تو ماں نے پانی کے گلاس کے ساتھ ایک زرد رنگ کا لفافہ بھی تھما دیا۔
بہ عجلت تمام لفافہ چاک کیا ۔۔۔ مگر وہ خط کیا بلکہ ایک درد ناک اطلاع تھی :

"پیارے خالد !
دیوار برلن تو آخر کار گرا دی گئی ۔۔۔ لیکن میری عزیز ماں کی موت کے بعد۔

تمہارا ،
براٸن 

ملتے جلتے آرٹیکلز