اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/ea-malamat-kar

اے ملامت کار

اے ملامت کار

 

اے ملامت کار! مجھے تنہا چھوڑ دے!

میں  تجھے اس محبت کی قسم دیتا ہوں! جو تیری روح کو تیری محبوبہ کے جمال میں جذب کرتی ہے، تیرے دل کو تیری ماں کی شفقت میں جذب کرتی ہےاور تیرے پدرانہ جذبات تیرے  بیٹے سے وابسطہ کرتی ہے، مجھے میرے حال پر چھوڑ دے!!

مجھ سے اور میرے خوابوں سے کوئی واسطہ نہ رکھ اور کل تک کے لیے صبر کر ! کل جو چاہے گا، میرے متعلق فیصلہ کر دے گا!

تو نے نصیحتوں سے اپنا خلوص ظاہر کیا، لیکن نصیحت ایک سایہ ہے جو روح کو حیرت کے سبزہ زار میں لے جاتا ہے، اس مقام کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے، جہاں زندگی مٹی کی طرح جامد ہے!

میرا دل چھوٹا سا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے سینے کی تاریکی سے نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھوں، اور اس کی گہرائیوں کا اندازہ کروں ، اس کے اسرار کا کھوج لگائوں! اس لیے اے ملامت کار !اپنے اعتقاد کے تیروں سے اس کی نگرانی   نہ کر! اسے خوفزدہ کر کے پسلیوں  کے  پنجرے میں چھپے رہنے پر مجبور نہ کر! جب تک کہ وہ اپنے اسرار کا خون نہ بہا لے ، اپنا وہ فرض ادا نہ کر لے، جو دیوتائوں نے اسے حسن و محبت کی آمیزش سے  پیدا کرتے وقت اس کے ذمہ عائد  کیا تھا۔

سورج نکل آیا  اور بلبل ہزار داستان چہکنے لگی۔ آس اور مشک کی خشبوئیں فضا میں پھیل گئیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ نیند کے غلاف سے نکل کر  سفید بھیڑ کے بچوں کے ساتھ چلوں !  اس لئے اے ملامت کار! تو مجھے نہ روک! جنگل کے شیروں اور وادی کے سانپوں سے مجھے نہ ڈرا کہ میری روح خوف کو نہیں جانتی اور کسی برائی سے پیش از وقت نہیں ڈرتی۔

اے ملامت کار! مجھے چھوڑ دے اور نصیحت نہ کر! اس لئے کہ مصائب نے میری چشمِ بصیرت کو وا کر دیا ہے۔ آنسوؤں نے میری بصارت کو چمکا دیا ہے اور غم نے مجھے دلوں کی زبان سکھا دی ہے۔

ممنوعات کا ذکر چھوڑ کہ میرے ضمیر کی عدالت مجھ پر منصفانہ احکام صادر کرتی ہے۔ اگر میں بے گناہ ہوں گا تو وہ مجھے سزا سے بچائے گی، اور اگر مجرم ہوں گا تو ثواب سے محروم  کر دےگی۔

دیکھ محبت کا جلوس جا رہا ہے ، حسن اپنے جھنڈے بلند کئے اس کے ساتھ ہےاور جوانی خوشی کے بگل بجا  رہی ہے! ! مجھے نہ روک!! اے ملامت کار!! بلکہ جانے دے !! کہ  راستوں پر گلاب اور چنبیلی کے پھول بچھے ہیں  اور فضا مشک کی خوشبو سے بسی ہے۔

دولت کی کہانی اور عظمت کے قصے مجھے نہ سنا کہ میرا نفس اپنی قناعت کی بنا پر بے نیاز اور دیوتاؤں کی عظمت و بزرگی کی پرستش میں محو ہے!

سیاست  کی باتوں اور اقتدار کی خبروں سے مجھے معاف رکھ ! کہ ساری زمین میرا وطن اور تمام انسان میرے ہم وطن ہیں۔

ملتے جلتے آرٹیکلز