اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/insan-aur-fitrat

انسان اور فطرت

انسان اور فطرت

 

ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا "اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا "اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں. محتلف بیماریوں کے جراثیم نرم و نازک پاکیزہ لباس کے ساتھ چمٹ گئے ہیں. کیا تم اب بھی آہیں بھرنے کا طعنہ دیتے ہو؟”.

پھر میں نے پھولوں کے اشک آلود چہروں کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہے تھے.”اے حسین و جمیل پھولوں! تم کیوں روتے ہو؟” میں نے سوال کیا. ایک پھول نے اپنا نرم و نازک سر اٹھایا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا. "ہم اس لیے روتے ہیں کہ ابھی کوئی شخص ہمیں توڑ کر لے جائے گا اور شہر کی کسی منڈی میں فروخت کر دے گا”.

پھر میں نے ندی کو بیوی کی طرح آہ زاری کرتے سنا جیسے وہ اپنے اکیلے بچے کی موت پر ماتم کر رہی ہو

اے پاکیزہ ندی بھلا تو کیوں رو رہی ہے؟ میں نے ہمدردی سے سوال کیا.

یہ سن کر ندی نے کہا "میں اس لیے رو رہی ہوں کہ انسان نے مجھے شہر جانے پر مجبور کر دیا ہے. وہ مجھے گندی نالیوں میں ڈال کر میری پاکیزگی کو ملوث کرتا ہے اور میری صفائی قلب کو نجاست سے گندہ کرتا ہے”.

پھر میں نے پرندوں کو آہیں بھرتے سنا پھر میں نے پوچھا "اے پیارے پرندوں تمہیں کیا دکھ ہے؟ تم کیوں آہیں بھرتے ہوِ اُن میں سے ایک پرندہ اُڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا! "یہ ابن آدم ابھی مسلح ہتھیاروں سے لیس ہو کر میرے اس کھیت میں آئیں گے اور اس طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے جیسے ہم سچ مچ ان کے دشمن ہیں ہم اس وقت ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں کیوں کی ہمیں پتہ نہیں کہ کون شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون موت کا شکار ہو گا. ہم جہاں جاتے ہیں موت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی”

اب پہاڑوں کے پیچھے سورج طلوع ہو رہا ہے اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنوں کو بکھیر رہا ہے. میں نے سراپا حُسن کی طرف دیکھا اور کہا "جس چیز کو دست قدرت نے جنم دیا ہے. انسان اُس کو کیوں برباد کر رہا ہے؟

ملتے جلتے آرٹیکلز