اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/karachi-ki-bas

کراچی کی بس

کراچی کی بس

 

بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح 

کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح 

سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح 

کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح 

محروم ہو گیا تھا کوئی ایک پاؤں سے 

جوتا بدل گیا تھا کسی کا کھڑاؤں سے 

کوئی پکارتا تھا مری جیب کٹ گئی 

کہتا تھا کوئی میری نئی پینٹ پھٹ گئی 

بس میں تمام پردوں کی دیوار ہٹ گئی 

ریش سفید زلف سیہ سے لپٹ گئی 

ایک اچھا خاصا مرد زنانے میں گھس پڑا 

گویا کہ ایک چور خزانے میں گھس پڑا 

لیڈیز کی صفوں میں جو چہرے تھے کچھ حسین 

ان پر نظر جمائے ہوئے تھے میاں متین 

شامل مسافروں میں تھے ہر فن کے ماہرین 

کچھ ان میں ناظرین تھے باقی تماش بین 

ذوق نظر کی شرط تھی منظر برا نہ تھا 

دس پیسے کے ٹکٹ میں یہ پکچر برا نہ تھا 

گاڑی میں ایک شور تھا کنڈکٹر آگے چل 

کہہ دے خدا کے واسطے ہاں ٹھیک ہے ڈبل 

کب تک کھڑا رہے گا سر جادۂ عمل 

لڑنے کی آرزو ہے تو باہر ذرا نکل 

تجھ پر خدا کی مار ہو اسٹارٹ کر دے بس 

دو پیسے اور لے لے جو دولت کی ہے ہوس 

کنڈکٹر اب یہ کہتا تھا وہ بس چلائے کیوں 

جو بس میں آ گیا ہے کرے ہائے ہائے کیوں 

جس کو ہو جاں عزیز مری بس میں آئے کیوں 

ایسے ہی گل بدن تھے تو پیسے بچائے کیوں 

ٹھانی ہے دل میں اب نہ دبیں گے کسی سے ہم 

تنگ آ گئے ہیں روز کی کنڈکٹری سے ہم 

کہتا تھا وہ کسی سے بھی کم تر نہیں ہوں میں 

یعنی کسی کے باپ کا نوکر نہیں ہوں میں 

پبلک سے کیوں ڈروں کوئی لیڈر نہیں ہوں میں 

کیوں ریگولر چلوں مہ و اختر نہیں ہوں میں 

بس میں کھڑے رہو جو مرے خیر خواہ ہو 

دیکھو مجھے جو دور سے عبرت نگاہ ہو 

یہ بس جو واقعی تھی کئی سال سے علیل 

مشکل سے ایک گھنٹے میں چلتی تھی چار میل 

مالک نے بھی یہ سوچ کے دے دی تھی اس کو ڈھیل 

اب اس کی زندگی کے ہیں لمحے بہت قلیل 

اب تو کسی کلرک سے اچانک یہ جا ملے 

کچھ بیمہ کمپنی سے ہمیں بھی صلا ملے 

ممکن نہ تھا کہ بس سے ہمارا ملے مزاج 

جمہوریت ہے ہم کو پسند اور اسے نراج 

مشکل تو یہ ہے بس کا معاون ہے کل سماج 

ایسے میں کیا بلند ہو آواز احتجاج 

گھبرا کے ہم تو آرٹ کی دنیا میں کھو گئے 

جب تک ملیر آیا کئی شعر ہو گئے 

ملتے جلتے آرٹیکلز