اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/lehron-ka-geet

لہروں کا گیت

لہروں کا گیت

 

مظبوط ساحل میرا محبوب ہے اور میں اس کی محبوبہ ہوں۔

محبت ہمیں کبھی نہ کبھی ایک دوسرے سے ملا دیتی ہے اور پھر چاند مداخلت کرتاہے۔اور ہمیں جدا کر دیتا ہے۔

میں تیزی سے اس کی طرف جاتی ہوں اور جدا ہو جاتی ہوں۔ گہرے رنج کے ساتھ ہم ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہیں۔میں گہرے نیلے افق  سے نکل کر چپکے سے ساحل کی  طرف بڑھتی ہوں۔ اور اس کے لیے ریت کے سونے کا ایک تخفہ لاتی ہوں۔ پھر ہم نہایت مسرت سے ہم آغوش ہو جاتے ہیں۔

میں اس کی پیاس بجھاتی ہوں اور دل کو حوصلہ دیتی ہوں۔وہ میری آواز ملائم بناتا ہے، اور میری برہمی کو کم کرتا ہے۔ صبح سویرے میں اسے محبت کے گیت سناتی ہوں اور وہ فرط مسرت سے مجھے بھینچ لیتا ہے۔

جب  جوار بھاٹا آتا ہے، میں اسے حوصلہ افزا اور امید  کی جھلک  دکھانے والی گیت سناتی ہوں۔اور اس کے چہرہ پر بوسوں کے لطیف نشان چھوڑ کر جدا ہو جاتی ہوں۔میں جذباتی اور خوف زدہ ہوں۔ لیکن وہ سنجیدہ اور صابر ہے۔اس کا کشادہ سینہ میرے غم کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

جب جوار بھاٹا آتا ہے تو ہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور جب جوار بھاٹا ختم ہوتا ہے، میں دعا کے لئے اس کے قدموں پر گر پڑتی ہوں۔

اکثر اوقات جم سمندری پریاں ستاروں کا نظارہ کرنے  کے لیے سطح آب پر نمودار ہوتی ہیں،میں ان کے ساتھ رقص کرتی ہوں۔

میں نے اکثر اوقات  محبت کرنے والوں کو اپنی تنگ دامنی اور بے بسی کی شکایت کرتے سنا ہے۔ میں ان کو سکون کا سامان بہم پہنچاتی ہوں۔

اکثر اوقات میں نے بڑی چٹانوں سے چھیڑ چھاڑ کی ہے،اور مسکراتے ہوئے انہیں گدگدایا ہے،لیکن میں نے انہیں کبھی جواب میں مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔

بسا اوقات میں نے ڈوبنے والوں کو اوپر اٹھا کر ساحل تک پہنچایا ہے جو انہیں قوت بخشتا ہے جو اسے مجھ سے ملی ہے۔

بسا اوقات میں نے سمندر کی  گہرائی سے موتی چرا کر اپنے محبوب ساحل کو دیے ہیں، وہ انہیں لے لیتا ہے اور میں تخفہ اسے  دیتی رہتی ہوں کیونکہ وہ ہمیشہ میرا سواگت کرتا ہے۔

رات کے گہرے سناٹے میں جب کہ تمام مخلوق نیند کی گرفت میں ہوتی ہے۔ میں تھم کر گانے لگتی ہوں، میں کبھی گاتی ہوں اور کبھی آہیں بھرتی ہوں، میں ہمیشہ بیدار رہتی ہوں۔

آہ! ۔۔۔۔۔۔۔  نیند نے مجھے کمزور بنا دیا ہےلیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میں محبت کی متوالی ہوں اور محبت ہر شے سے مظبوط اور اس کی  عظمت ناقابل تسخیر ہے۔

یہ ممکن ہے کہ میں تھک جائوں لیکن مجھے یقین ہے  کہ موت مجھ پر غالب نہ آسکے گی۔

ملتے جلتے آرٹیکلز