اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/mohabat-by-khalil-jabran

محبت

محبت

 

نہر کے کنارے ، اخروٹ اور بید مشک کے  درختوں کے چھائوں  تلے ایک  غریب کسان کا لڑکا بیٹھا، بہتے پانی کو نہایت سکون و خاموشی سے دیکھ رہا تھایہ نوجوان کھیتوں میں پروان چڑھا تھا، جہاں ہر چیز محبت کی کہانی سناتی ہے،جہاں شاخیں آپس میں گلے ملتی ہیں،جہاں نسیم بہار پھولوں سے آنکھ مچلی کھیلتی ہے، جہاں پرندے الفت کے گیت گاتے ہیں، اور جہاں فطرت۔۔۔۔ اپنی تمام نظر کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ روحانیت کی تلقین کرتی ہے۔

بیس سالہ نوجوان نے کل  ایک دوشیزہ کو چشمے کے کنارے، حسین لڑکیوں کے جھرمٹ میں دیکھا اور عاشق ہو گیا۔ لیکن اب اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ بادشاہ کی لڑکی ہے تو  اس  نے اپنے دل کو ملامت کی  اور اپنی روح سے خود اس کی شکایت کی۔مگر بے سود!  ملامت دل کو محبت سے باز رکھ سکتی ہے،نہ شکایت روح کو حقیقت سے ہٹا  سکتی ہے ۔انسان اپنے دل اور روح کے درمیان، نرم و نازک شاخ کی مثال ہےجو شمالی اور جنوبی ہوائوں کی زد میں  ہو!

نوجوان نے نگاہ اٹھائی،بنفشہ کے پھول ، بابونہ کے پھولوں کہ ہم پلہ اگے ہوئے تھے، اور بلبل قمری سے سرگوشیاں کر رہی  تھی۔اسے اپنی تنہائی  پر رونا آگیا۔محبت کی گھڑیاں اس کی نگاہوں کے سامنے سے  پرچھائیوں کی طرح گزر گئیں ،اس نے کہا: الفاظ اور آنسوئوں کے ساتھ اس کے جذبات بھی رواں تھے۔

یہ محبت ہی ہے، جو میرا مذاق اڑاتی ہے! دیکھو! وہ  مجھے بے وقوف بنا کر اس جگہ لے آئی ہے، جہاں آرزوئیں عیب سمجھتی ہیں اور تمنائیں ذلت!

محبت نے۔۔۔۔۔ جس کا میں پجاری ہوں ۔۔۔۔۔ میرے دل کو تو شاہی محل میں اچھال پھینکا اور میری زندگی کو ایک غریب کسان کی پست و زبوں جھونپڑی میں دھکیل دیا۔  آہ!  اس نے میری روح  کو اس پری وش کے حسن کا اسیر کر دیا ، جسے لوگ ہر وقت گھیرے رہتے ہیںاور اقتدار اعلٰی جس کی حفاظت کرتا ہے۔

اے محبت! میں تیرا حلقہ بگوش ہوں ، پھر تو مجھ سے کیا چاہتی ہے؟ میں تیرے پیچھے پیچھے آتشیں راستوں پر چلا اور شعلوں نے مجھے لپک لیا،میں نے اپنی آنکھیں کھولیں لیکن مجھے تاریکی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا، میں نے اپنی زبان کو جنبش دی، لیکن یاس و ناامیدی کے سوا ایک لفظ میرے منہ سے نہ نکلا۔

اے محبت! شوق نے مجھے ایسی روحانی تشنگی سے  ہم کنار کر دیا ہے، جو محبوب کے بوسہ کے سوا رفع نہیں ہو سکتی ۔

میں کمزور ہوں اے محبت! اور تو قوی ، پھر مجھ سے کیوں جھگڑتی ہے؟ میں بے گناہ ہوں اور تو عادل پھر مجھے اپنے ظلم و ستم کانشانہ کیوں بناتی ہے؟ مجھے کیوں ذلیل کرتی ہے؟ جبکہ تیرے سوا میرا کوئی مددگار نہیں! مجھ سے بے تعلق کیوں ہوتی ہے؟ جبکہ تو ہی میری خلقت کا سبب ہے! اگر میرا خون تیری  مرضی کے خلاف رگوں میں گردش کرے ، تو اسے بہا دے! اگر میرے قدم تیری راہ کے سوا زرا بھی حرکت کریں ، تو انہیں کاٹ ڈال! اس جسم کے ساتھ جو تیرا جی چاہے کر لیکن میری روح کو ان پر سکون کھیتوں میں ، اپنے بازوں کے زیر سایہ لطف اٹھانے دے!

نہریں اپنے محبوب سمندر کی طرف رواں ہوتی ہیں، پھول اپنے معشوق، نور کے لیے  مسکراتے ہیں ، بادل اپنی ارادت مند وادی  میں اترتے ہیں، لیکن میں۔۔۔۔۔ جس کی بپتا سے نہر واقف ہے، نہ پھول اور نہ بادل۔۔۔۔۔۔ خود کو اپنے غم میں تنہا اور محبت میں اکیلا پاتا ہوں ، اس سے دور جو مجھے اپنے باپ کی فوج کا سپاہی بنانا پسند کرے گی نہ اپنے محل کا خادم !!!!!!!۔

نوجوان تھوڑی دیر کےلیے خاموش ہو گیا ، گویا نہر کی نغمہ آگیں روانی اور شاخوں کے پتوں کی لطیف سرسراہٹ سے گفتگو کا سلیقہ سیکھنا چاہتا ہے،اس نے دوبارہ کہنا شروع کیا: اے وہ! کہ میں تیرے نام سے اس قدر مرعوب و خائف ہوں کہ تجھے تیرا نام لے کر پکار بھی نہیں سکتا! اے شان و شکوہ کے پردوں اور عظمت  و جلال کی دیواروں میں مجھ سے چھپنے والی !اے وہ حور بقا  کی ابدیت  کے سوا۔۔۔۔۔۔ جہاں ہر طرف مساوات ہی مساوا ت ہے۔۔۔

میں تجھ سے ملنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ! اے وہ ، کہ تلواریں تیری اطاعت کرتی ہیں ، گردنیں تیرے سامنے خم ہوتی ہیں اور خزانوں اور عبادت گاہوں کے دروازے تیرے لیے کھلے ہیں! تو نے میرے دل پر  قبضہ کر لیا، جسے محبت نے مقدس کیا تھا، میری روح کو اپنا غلام بنا لیا ہے، جسے  اللہ نے شرف و امتیاز بخشا تھا اور میری عقل کو پر چا لیا ہے، جو کل تک ان  کھیتوں کی آڑ فضا میں بے  فکر تھی، لیکن آج محبت کی زنجیروں میں مقید ہے۔

اے حسین دوشیزہ! جب میں نے تجھے دیکھا تو اپنی تخلیق کی غایت کو پالیا ، لیکن جب میری نظر تیری بلندی اور اپنی پستی پر گئی ، تو مجھے معلوم ہو گیا،فطرت کے کچھ راز ہیں،جو انسان کی سمجھ میں نہیں آ سکتے ، اور کچھ راستے ہیں، جو روح کو ایسے مقام پر لے جاتے ہیں جہا ں محبت انسانی قانون سے بالا تر ہو کر  حکومت کر تی ہے ۔

اے غزال رعنا! جب میں نے تیری مست انکھڑیاں دیکھیں ، تو مجھے یقین ہو گیا  کہ یہ زندگی ایک جنت ہے اور انسان کا دل ، اس کا دروازہ! لیکن جب تیری عظمت  اور ذلت کا مار و اور رٹیال کی طرح آپس میں گتھم گتھا  ہوتےپایا ، تو جان لیا کہ  یہ زمین میرا وطن نہیں ہو سکتی ۔

اے حسن و جوانی کی پیکر لطیف! جب میں نے تجھے حسین لڑکیوں کے جھرمٹ میں  بیٹھے دیکھا ، جیسے پھولوں میں گلاب! تو گمان کیا کہ میرے خوابوں کی دلہن نے انسانی قالب اختیار کر لیا ہے، لیکن جب مجھے تیرے باپ کی بزرگی اور مرتبے کا علم ہوا تو میری سمجھ میں آگیا کہ  گلاب کا پھول توڑنے سے پہلے ان کانٹوں سے سابقہ پڑنا ہے، جو انگلیوں کو زخمی کر دیتے ہیں،ہاں میری سمجھ میں آگیا  جو کچھ خواب جمع کرتے ہیں،بیداری اسے منتشر کر دیتی ہے۔

نوجوان اٹھا اور ان الفاظ میں یاس و ناامیدی کی تصویر کھینچتا ہوا  شکستہ دلی اور  بے دمی کے ساتھ  چشمہ کی طرف روانہ ہوا: اے موت! آ! اور مجھے زندگی کی قید سے چھڑا لے ! وہ سر زمین جہاں کانٹے پھولوں کا گلہ گھونٹتے ہوں، رہنے کے قابل نہیں۔ آ! او ر مجھے اس زمانے سےنجات دے جس میں محبت کو  عظمت کی کرسی سے اتار کر  اس کی جگہ دینوی عزت کو بٹھا دیا  گیا ہے۔

مجھے آزاد کر ! اے موت! دو محبت بھرے دلوں کی ملاقات کے لیے آغوش ابد اس دنیا سے کہیں زیادہ موزوں ہے، وہاں میں اپنی محبوبہ کا انتظار کروں  گا، اور وہیں ہم دونوں ملیں گے!!!۔ 

جب وہ چشمہ پر پہنچا تو شام ہو چکی تھی اور سورج نے  اس کھیت سے اپنی  سنہری چادر سمیٹنی شروع کردی تھی۔ حسین شہزادی کے قدموں تلے روندی ہوئی زمین پر بیٹھ کر وہ رونے لگا، اس نے اپنا سر سینہ کی طرف جھکا لیا، گویا! قلب گریزاں پر قابو پانا چاہتا تھا۔

اس اثنا میں  بید مشک کے درختوں  میں سے ایک دوشیزہ سبزے کو اپنے دامنوں سے نہال کرتی نمودار ہوئی ۔ وہ نوجوان کے پہلو میں آ کھڑی ہوئی اور اپن انرم و نازک ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا، نوجوان نے گھبرا کر نگاہ اٹھائی۔۔۔۔۔۔۔ اس سونے والے کی طرح جسے  سورج کی شعاعوں نے بیدار کر دیا ہو۔ اس نے دیکھا، شہزادی سامنے کھڑی ہے، وہ گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا  جس طرح موسٰی طور کی چوٹی  پر اپنی محبت کا جلوہ روشن دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس کی زبان نے جواب دے دیا اور اشک آلود آنکھوں نے زبان کا فرض ادا کر دیا۔

دوشیزہ نے اسے گلہ لگایا، ہونٹوں اور آنکھوں کو بوسہ دیا، گرم گرم کلوں کو چوسا اور بانسری سے زیادہ شیریں آواز میں بولی: 

میرے محبوب! میں نے تمہیں خواب میں دیکھا ہے تنہایوں میں تمہارے تصور  سے جی بہلایا ہے ، تم میری روح کے رفیق ہو، جسے میں گم کر دیا تھا، تم میری زات کے  حسین نصف آخر ہو  جو اس دنیا میں آنے سے پہلے مجھ سے جدا کر لیا گیا تھا۔

میں چوری چھپے تم سے ملنے آئی ہوں، میرے حبیب! دیکھو! اس  وقت تم میری آغوش میں ہو۔پریشا ن نہ ہو میں اپنے باپ کے جاہ و چشم پر لات مار کر آئی ہوں  تاکہ تمہارے ہمراہ کسی دور دراز مقام پر چلی جائوں اور ہم دونوں زندگی اور موت کے جام ایک ساتھ پیئیں۔

اٹھو ! میرے پیارے! ہم انسانوں سے دور۔۔۔۔ بہت دور۔۔۔۔ کسی ویرانے میں چلیں۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کو چاہنے والے ۔۔۔۔ درختوں میں  سے ہو کر کہیں چلے گئے۔۔۔۔۔ رات کے پردوں نے انہیں روپوش کر دیا، اور وہ بادشاہ کی قوت و ظلمت  کی پرچھائیوں سے بے خوف چلے جارہے تھے۔

شاہی جاسوسوں کو شہر کے آس پاس  دو انسانی ڈھانچے ملے جن میں سے ایک کے گلے میں ہار تھا۔ قریب ہی ایک پتھر پڑا تھا ، جس پر یہ الفاظ کنندہ تھے۔

ہمیں محبت نے ملایا ہے، پھر کون ہے، جو ہمیں جد ا کرسکے؟ ہمیں موت نے اپنی پناہ میں لیا ہے ، پھر کون ہے جو ہمیں اس کی پناہ سے نکال سکے؟َ

ملتے جلتے آرٹیکلز