اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/pas-e-parda

پس پردہ

پس پردہ

 

جب رات آدھی ہوئی تو راحیل نے آنکھیں  کھولیں ،تھوڑی  دیر تک چھت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا  اور بند کر لیں، پھر ایک گہرا مگر ٹوٹتا ہوا سانس بھرا، اور ایسی آواز میں جس سے موت کا شدید کرب ظاہر ہوتا تھا ،کہا۔جلوس سحر وادی کے کناروں تک پہنچ گیا ہے ہمیں اسے دیکھنے جانا چاہیے!

یہ سن کر پادری اس کے قریب آیا  اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔۔۔مردہ کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا تھا اور پھر اس نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا۔۔۔۔۔ مردہ کے دل کی حرکت زمانہ کی طرح خاموش تھی۔

پادری نے اپنا سر جھکایا اور اس کے ہونٹ مرتعش ہوئے گویا اپنی زبان سے ایک مقدس کلمہ ادا کرنا چاہتا  تھا، جسے رات کے سائے پر امن  سنسان وادیوںمیں دہرائیں ۔ اب اس نے اپنی دونوں کلائیوں سے سینے پر صلیب بنائی  اور اس شخص کی جانب متوجہ ہو کر جو اس کمرہ کے ایک تاریک گوشہ میں بیٹھا تھا،شفقت و مہربانی کے لہجے مین کہنے لگا۔افسوس تمہاری بیوی اللہ کو پیاری ہوئی اٹھو ! اور میرے ساتھ اس کی بخشش کے لیے دعا مانگو۔

اس شخص نے اپنا سر اٹھایا ،اس کا چہرہ وفور ملال سے متغیر ہو گیا تھا اور آنکھیں شدت  غم سے نکل پڑ رہی تھی، وہ خاموشی سے اٹھا اور پادری کے پہلو میں بیٹھ کر مرنے والی کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگا،اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور وہ بار بار اپنے سینے اور چہرے پر صلیب کا نشان بنا رہا تھا۔

پادری اٹھا اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا ۔ اب تم دوسرے کمرے میں جائو تمہیں نیند اور آرام کی سخت ضرورت ہے!۔ 

وہ بغیر کچھ کہے سنے اٹھا اور سامنے والے کمرے میں جا کر ایک چھوٹے سے صوفے پر گر گیا۔ غم  بیداری اور انتظار نے اس کے جسم کو بے جان کر دیا تھا۔

تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ نیند اس کی آنکھوں پر غالب آگئی اور وہ سو گیا جیسے ایک شیر خوار بچہ اپنی ماں کی آغوش میں سوتا ہے۔لیکن پادری اب تک اسی کمرے میں رنج و ملال کی تصویر بنے کھڑا تھا،وہ بیک وقت اشک آلود آنکھوں سے راحیل کی لاش کو بھی دیکھ رہا تھا اور اس کے شوہر کو بھی،جو سامنے والے کمرے میں غافل پڑا سو رہا تھا،ایک گھنٹہ گزر گیا جو  زمانے سے زیادہ   طویل اور موت سے زیادہ خولناک تھا ،لیکن پادری سوئے ہوئے مرد اور سوئی ہوئی عورت کے درمیان اسی طرح کھڑا رہا،۔۔۔۔ مرد جو کھیت کی نیند سو رہا تھا اور بہار کی آمد آمد کے خواب دیکھ رہا  تھا ، اور عورت جو گزرے ہوئے زمانے کے ساتھ سو رہی تھی  اور ابدیت کے خواب دیکھ رہی تھی۔

اب پادری مردہ کی چارپائی کے نزدیک آیا اور  دو زانوں بیٹھ گیا۔ جس طرح عبادت گزار قربان کے سامنے بیٹھتے ہیں، اس نے مردہ کا ٹھنڈا ہاتھ اٹھا کر اپنے گرم ہونٹوں سے لگا لیا  اور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ، جس پر موت کی ساہ چادر پڑی تھی، رات کی طرح پر سکون  سمندر کی طرح  گہری اور انسانی آرزووں کی طرح لرزتی کانپتی آواز میں اس نے کہا: راحیل! میری دینی بیٹی راحیل! میری بات سن! میں اس وقت گفتگو کرنے پر قادر ہوں موت نے میرے لب واں کر دیے ہیں ،کہ میں تجھ پر وہ راز ظاہر کر دوں جو  خود موت سے زیادہ گہرا ہے اور غم نے میری زبان کے تالے کھول دیے ہیں، کہ میں تجھ پر وہ راز منکشف کر دوں جو خود غم سے زیادہ شدید ہے۔

اے زمین اور لامحدود  فضا کے درمیان پرواز کرنے والی  روح ! میری روح کی پکار سن! اس نوجوا ن کی پکار سن! جو کھیت سے واپس آتے ہوئے تجھے دیکھتا تھا تو تیرے حسن سے مرعوب ہو کر درختوں میں چھپ جاتا  تھا  اس پادری کی پکار سن!!! جو انسان کا قدیم خدمت گزار ہے،خدا کی قسم اب وہ تجھے  بغیر کسی خوف کے بلا رہا ہے، اس لیے کہ جو ار خداوندی پہنچ گئی ہے۔

سرگوشی کے انداز میں یہ الفاظ کہہ کر وہ لاش پر جھک گیا، اور اسکی پیشانی ، آنکھوں اور گردن کے بوسے لینے لگا۔۔۔۔۔۔ طویل ،گرم اور خاموش بوسے۔۔۔۔۔۔ وہ مقدس بوسے جو  اس کی روح کے ان تمام اسرار کی پردہ کشائی کر رہے تھے  جن کا تعلق محبت  اور غم سے تھا!!!!!

اچانک وہ پیچھے ہٹا اور خزاں رسیدہ پتوں کی طرح زمین پر گر پڑا ، گویا راحیل کے برففانی چہرے  کی لمس نے جذبہ ندامت کو اس کے باطن میں بیدار کر دیا تھا، وہ اٹھا  اور دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا کر دوزانوں ہو کر بیٹھ گیا۔دل ہی دل میں اس نے کہنا شروع کیا۔

یارب ! میرا گناہ معاف کر دے! ! میرے معبود!میری کمزوری کو نظر انداز فرما!میں آخر وقت تک ثابت قدم نہ رہ سکا اور ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔وہ راز جو سات برس تک زندگی نے میری نگاہوں سے پوشیدہ رکھا ، موت نے ایک لمحہ میں مجھ پر واضح کر دیا۔ یارب میرا گناہ معاف کر دے۔  میری کمزوری کو نظر انداز کر دے!!!

وہ اسی طرح روتا پیٹتا  اور دائیں بائیں سر دھنتا رہا، وہ راحیل کے مردہ    جسم کی طرف جان بوجھ کر نہیں دیکھتا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کے اسرار نفسانی اس کی روح کو پامال نہ کردیں ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور اس نے ان ہیولانی نقوش پر اپنی  گلابی چادر ڈال دی جنہیں محبت ، مذہب ، زندگی اور موت بنایا تھا۔

ملتے جلتے آرٹیکلز