اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/qaidi-badshah

قیدی بادشاہ

قیدی بادشاہ

 

اپنا دل بھاری نہ کر! اے قیدی بادشاہ! تیرا قید خانہ تیرے لیے اس قدر ابتلا انگیز نہیں ہے جس قدر میرا جسم میرے لیے ہے!

صبر کر اور اطمینان سے بیٹھ جا !! اے ہیبت و جلال کے پیکر اعظم ! مصائب وآلام سے گھبرانا گیدڑوں کا کام ہے، لیکن قیدی بادشاہوں کو زنداں اور داروغہ زنداں کا مذاق اڑانے کے سوا کوئی چیز زیب نہیں دیتی۔

اے عزم وہمت کے پتلے ! اپنا غم ہلکا کر اور میری طرف دیکھ! کہ جس طرح تو فولاد ی سلاخوں سے مقید  ہے، میں زندگی کے غلاموں میں گھرا ہوا ہوں   ، ہم دونوں میں کوئی فرق نہیں،سوائے اس ،خواب پریشان کے جو میری روح سے متصل ہے لیکن تیرے قریب آتے ڈرتا ہے، ہم دونوں اپنے اپنے قطن سے نکالے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔دوستوں اور عزیزوں سے دور! اس لیے پریشان نہ ہو اور میری طرح زمانہ کی سختیوں پر صابر ہو کر  ان پست ہمتوں کے ساتھ کہ جو ہم پر اپنے انفرادی حوصلوں سے نہیں بلکہ اپنی کثرت تعداد کی بنا پر غالب ہے۔

اس دہاڑنے اور روکنے سے کیا فائدہ ؟جبکہ لوگ بہرے ہیں اور نہیں سنتے !

تجھ سے پہلے میں بھی بہت چیخ و پکار کر چکا ہوں ، لیکن ظلم  کی پرچھائیوں کے سوا  کسی نے دیھان نہ دیا، تیری طرح میں نے بھی انسانی جماعتوں کی چھان بین کی ہے، لیکن ان بزدلوں اور کمزوروں کے سوا  مجھے کوئی نہ ملا جو ازراہ تمسخر زنجیروں میں جھکڑے ہوئے  قیدیوں کے سامنے جھوٹی شجاعت کا اظہار کرتے ہیں،اور پنجرون میں مقید قیدیوں سے بیدردی کے ساتھ گستاخیاں !!! دیکھ اے شاہ عظمت و جلال ان لوگوں کی طرف دیکھ! جو تیرے پنجرے کے چاروں طرف کھڑے ہیں،دیکھ ان کے چہروں کو غور سے دیکھ،تجھے ان میں وہ تمام باتیں نظر آئیں گی جو تو گمنام صحرائوں میں اپنے قریب ترین امرا اور خادموں کے چہروں پر دیکھتا تھا ، ان میں سے بہت سے اپنی بزدلی کی وجہ سے خرگوش،بہت سے اپنی مکاریوں کی وجہ سے لومڑی اور بہت سے اپنی خباثت کے سبب سانپ ہیں لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں جس میں خرگوش کی صلح پسندی لومڑی کی ذہانت اور سانپ کی دانائی ہو۔

دیکھ! اس شخص کو دیکھ! جو اپنی گندگی کی بنا  پر خنزیر سے زیادہ حثیت نہیں رکھتا ، لیکن اس کا گوشت اس قابل نہیں کہ کوئی اسے اپنی خوراک بنائے۔

اب اس شحص کو دیکھ جو اپنی بے وقوفی کے اعتبار سے گدھا معلوم ہوتا ہے، لیکن وہ ٹانگوں سے چلتا ہے۔

اب اس شخص کو دیکھ! جو نحوست کے لحاظ کوا معلوم ہوتا ہے ،لیکن اپنی کائیں کائیں کو عبادت گاہوں میں فروخت کرتا ہے، اور اب اس شخص کو دیکھ! جو غرور ناز سے طائوس سے مشابہ ہے  لیکن اس کے پر مانگے تانگے کے ہیں۔

دیکھ!  اے شاہ نہایت منتظر !ان محلوں اور درسگاہوں کو دیکھ یہ چھوٹے چھوٹے گھونسلے ہیں جن میں انسان رہتا ہے، اور ان طلائی چھتوں پر فخر کرتا  ہے، جو اسے ستاروں کے نظارے سے باز رکتھی ہیں،ان دیواروں کی پختگی سے خوش ہوتا ہے جو سورج کی شعاعوں کو اس تک پہنچنے نہیں دیتیں۔

یہ اندھیرے غار ہیں جن کے سائے میں جوانی کے پھول کملا جاتے ہیں، جن کے گوشوں میں محبت کے دہکتے انگارےراکھ ہو جاتے ہیں، اور جن کی فضا میں تصورات کے سارے نقوش ،دھوئیں کے ستونوں سے بدل جاتےہیں۔

یہ انوکھی وضع کے تہہ خانے ہیں ، جن میں بچے کی پلنگڑی مرنے والے کے بستر کے ہم پہلو ہوتی ہے، اور دلہن کا چھپر  کھٹ مردہ لاشوں کے قریب!۔۔۔

دیکھ! اے جلیل و الشان قیدی !ان چوڑے چکلے بازاروں اور ان تنگ و تاریک گلیوں کو دیکھ !یہ وادیاں ہیں  جن کی راہیں دشوار گزار ہیں جن کے گڑھوں میں چور تاک لگائے بیٹھے ہیں اور جن کے کناروں پر باغی چھپے ہوئے ہیں۔

یہ خواہشوں کے میدان جنگ ہیں۔۔۔۔۔ ان خواہشوں کے میدان جنگ جن میں روحیں بغیر تلواروں کے لڑتی ہیں  اور بغیر دانتوں کے ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں۔ بلکہ یہ خوفناک جنگل ہے جن میں مسمی صورتوں   خوشبووں    میں بسی ہوئی دموں اور چمکدار سینگوں والے جانور  رہتے ہیں  جو قانون اس لیے نافذ نہیں کرتے کہ محاسن حیات کی حفاظت کریں  بلکہ اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ مکاریوں اور چالبازیوں کو دوام حاصل ہو اور جن کے رواجی ضابطے بہتر اور جاندار چیزوں کی بقا کے لیے  نہیں ہوتے جھوٹ اور بدکاری کی بقاء کے ضامن ہوتے ہیں۔ رہے ان کے بادشاہ تو وہ  تیری طرح شیر نہیں بلکہ عجیب و غریب مخلوق ہیں جن کی چونچیں گدھ کی سی ہیں، اور چنگل بجوئوں کے جیسے زبانیں سانپوں کی سی اور ٹر ٹر مینڈکوں جیسی ۔

میری جان تجھ پر نثار! اے قیدی بادشاہ میری گفتگو بہت طویل ہوگئی اور میں نے تیرا بہت سا قوت ضائع کر دیا لیکن اپنے مرتبہ سے گرا ہوا دل تحت سے اتارے ہوئے  بادشاہوں سے ہی تسلی حاصل کرتاہے اور غمگین و مقید روح    قیدیوں اور غم زدوں ہی سے مانوس ہوتی ہے۔

اس لیے اس نوجوان کو معاف فرما  جو اپنی بھوک کو کھانے کی بجائے  باتوں سے بہلا رہا ہے اور پیاس کو پانی بجائے تصورات سے!

اے قہرمان اعظم ! رخصت اگر ہم اس دنیا میں دوبارہ نہ مل سکے تو پرچھائیوں کی دنیا میں ملیں گے جہاں بادشاہوں کی روحیں شاعروں کی روحوں سے ملتی ہیں۔

ملتے جلتے آرٹیکلز