اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/shaier-ki-zindagi

شاعر کی زندگی

شاعر کی زندگی

 

رات نے ڈیرے ڈال دیے تھے اور برف باری نے سارے شہر کو سفید  لباس پہنا دیا تھا۔ سردی اس بلا کی تھی کہ اہل شہر  بازاروں سے بھاگ کر اپنے اپنے مکانوں میں جا چھپے تھے۔ ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی، جیسے کوئی غم زدہ، سنگین  قبروں کے درمیان ، اپنے عزیز کی موت پر ۔۔۔۔ جیسے پنجہ شیر  نے زندگی کی لذتوں سے محروم  کر دیا ہو۔۔۔۔۔ سسکیاں بھرے!!!

شہر کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس کے ستون خمیدہ  اور چھت برف کی شدت سے اس قدر جھک  گئی تھی ، گویا گرا ہی چاہتا ہے۔ اس مکان کے ایک گوشہ میں،  پھٹے پرانے بستر پر، ایک قریب المرگ آدمی پڑا تھا،اس کی نگاہیں ایک ٹمٹاتے چراغ پر تھیں،جو ہر ساعت تاریکی پر غالب آنا چاہت تھا،اور ہر لمحہ مغلوب ہو جاتا تھا۔

ایک نوجوان ۔۔۔۔۔ جسے معلوم تھا   کہ اب زندگی کے جھگڑوں  سے چھٹکارا پانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس کے زرد چہرہ پر  امید کی روشنی تھی اور خشک  ہونٹوں  پر مایوس تبسم!

ایک شریف انسان۔۔۔ جو زندگی کو شاد کام بنانے کے لیے یزدانی برکتوں کا مثردہ لے کر اترا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ  انسانیت اس پر مسکرائے ، دنیا  سے رخصت ہو  رہا تھا۔

اس کے  آخری سانس نزع  کی کشمکش میں مبتلا تھے اور کوئی اس کے پاس نہ تھا ، سوائے اس ٹمٹاتے چراغ کے، جو اس کا مونس تنہائی تھا، اور ان اوراق پریشاں کے، جن پر اس  کے لطیف روحانی خیالات ، موتسم تھے۔

اس جاں بلب  جواں مرگ  نے اپنی باقی تمام قوتوں کو ، جو آغوش میں آسودہ ہونے ہی والی تھیں، جمع کیا، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور نیم مردہ پلکوں کو اس طرح جنبش دی،گویا تماشائے انجم کے لیے اپنی آخری  نگاہوں سے جھونپڑے کی چھت کو پھاڑ دینا چاہتا ہے۔

وہ کہنے لگا:آ! اے حسین موت آ! میری روح تیری مشتاق ہے، میری قریب آ، اور مادی زنجیریں توڑ دے۔ میں اس لامتناہی سلسلہ سے اکتا گیا ہوں ۔

آ، اے شیریں موت! اور مجھے ان لوگوں میں سے نکال جو مجھے اجنبی سمجھتےہیں، صرف اس بنا پر کہ میں جو کچھ فرشتوں سے سنتا ہوں ، انسانی زبان  میں ادا کر دیتا ہوں ۔

آ، جلدی سے میرے قریب آ ! کیونکہ دنیا میرے خیال سے  فارغ ہے، اس نے مجھے گوشہ نسیاں میں ڈال دیا ہے، صرف اس بات پر کہ میں اس کی طرح مال و دولت کی پوجا نہیں کرتا اور نہ اپنے سے کمزور کو  اپنا غلام بنانا چاہتا ہوں۔

آ! اے میری من موہنی! آ، اور مجھے اپنے ساتھ لے چل ، کیونکہ میرے پسماندوں کو اب میری ضرورت نہیں رہی۔آ، اور مجھے اپنے محبت بھرے  سینہ سے چمٹا لے ،میرے ان ہونٹوں کو  بوسہ دے جو کبھی اپنی ماں کے پیار سے لذت آشنا نہیں ہوئے جنہوں نے کبھی اپنی بہن  کے رخساروں کو مس نہیں کیا اور جنہوں نے  آج تک اپنے  محبوب کے چہرے کا بوسہ  نہیں لیا ۔ آ! میری پیاری موت! جلدی آ ، اور مجھے آزاد کر۔

اس وقت مرنے والے کے بستر کی جانب ، نسوانی سایہ تھا،غیر مادی اور متحرک سایہ ! جس کے جسم پر سفید برف سا لباس تھااور ہاتھوں میں فردوسی پھولوں کا تاج۔

سایہ رینگا اور اس کے گلے لگ گیااس نے شاعر کی آنکھوں کو بند کر دیا، تاکہ وہ روح کی آنکھوں سے مشاہدہ کرے اور اس کے لبوں کو بوسہ دیا۔۔۔۔۔

وہ بوسہ محبت جس نے اس کے ہونٹوں  پر ابدی تبسم چھوڑ دیا ۔

اب اس گھر میں مٹی کے ایک ڈھیر اور ان اوراق کے سوا ، جو اندھیرے میں ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے،اور کچھ نہ تھا۔

صدیاں بیت گئیں اور اس شہر کے رہنے والے ، بے حسی ، لاپرواہی اور سکھ چین کی نیند  سوتے رہے ۔ بالآخر جب وہ بیدار ہوئے اور ان کی آنکھیں صبح معرفت کے نور سے  روشن ہوئیں تو انہوں نے میدان عام میں اس شاعر کا بت نصب کیا اور ہر سال اس کی برسی منانے لگے ۔

آہ!!!! انسان کی نادانی!!!!!!!!!!!!!!!۔

ملتے جلتے آرٹیکلز