اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/shair-e-azam-balbak

شاعر اعظم          بعلبک  112 ق م

شاعر اعظم بعلبک 112 ق م

 

بادشاہ تخت  زر نگاہ پر جلوہ افروز تھا، جس کے چاروں طرف شمعیں اور عود و لوبان کی آنگیٹھیاں روشن تھیں۔ دائیں بائیں، درباری امیر اور مذہبی پیشوا  بیٹھے تھے۔ اور سامنے سپاہی اس طرح کھڑے تھے جیسے سورج کے سامنے مجسمے!

تھوڑی دیر  بعد جب مطربوں کے نغمے ختم ہو کر رات کے سیاہ  لباس کی تہوں میں گم ہو گئے  تو وزیر اعظم اٹھا اور بادشاہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہو کر ،بڑھاپے کی ناتواں آواز میں رک رک کر کہنے لگا۔

جہاں پناہ! ہندوستان کا ایک عجیب و غریب فلسفی کل شہر میں وارد ہوا ہے۔ اس کی تعلمیات ایسی انوکھی ہیں  کہ آج تک سننے میں نہیں آئیں۔ اس کا عقیدہ ہے کہ روح ایک جسم سے دوسرے جسم اور انسان ایک صدی سے دوسری صدی میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔یہاں تک کے وہ درجہ کمال کو پہنچ کر دیوتائوں کی صف میں شامل ہو جاتا ہے۔ اپنے اسی مذہب کی تبلیغ کے لیے وہ یہاں آیا ہے اور چاہتا ہے کہ  آج کی رات شرف باریابی حاصل کر کے حضور کے سامنے اپنے عقائد کی وضاحت کرے۔

بادشاہ نے سر ہلایا اور مسکرا کر کہا:ہندوستان سے ایسی ہی نرالی چیزیں آتی ہیں، اچھا! اسے حاضر کرو!

مابدولت اس کے دلائل سننا چاہتے ہیں

اسی لمحے ایک ادھیڑ عمر کا انسان دربار میں حاضر کیا گیا، جس کا رنگ گندمی، آنکھیں  بڑی بڑی ، چہرہ پُر وقار، اور شگفتہ خدوخال ، زبان  بے زبانی میں گہرے رازوں  اور انوکھی رغبتوں  کی ترجمان تھی۔ آداب بجا لانے کے بعد ، اجازت پاکر اس نے اپنا سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور وہ اپنے نئے عقیدے کا اظہار کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ روح اپنے اختیار کردہ درمیانی  واسطوں اور حاصل کر دہ تجربات کی تاثیرات  کے ذریعے درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے ،رفعت و قوت  عطا کرنے والی محبت کے ساتھ نشونما پاتے ہوئے کس طرح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہو تی ہے، پھر اس نے بیان کیا کہ کمالیاتی  ضرورتوں کی ٹوہ لگاتے ہوئے دور موجود میں  عہد ماضی کے گناہوں کا کفارہ ادا  کرتے ہوئے  اور ایک جون کی بوئی ہوئی کھیتی  دوسری جون میں کاٹتے ہوئے کس طرح نقل مکانی کرتا ہے۔

جب تقریر نے طول کھینچا اور بادشاہ کے چہرے پر بے چینی اور تکان کی علامات  ظاہر ہونے لگیں تو وزیر اعظم  نو وارد فلسفی کے قریب آیا اور اس کے کان میں کچھ کہا: بس! بحث کو اب کسی اور فرصت کے لیے اٹھا رکھو۔

فلسفی الٹے پائوں لوٹا اور مذہبی پیشوائوں کی صف میں بیٹھ گیا،اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، گویا  ہستی کے رموز و اسرار کو غور سے دیکھتے دیکھتے تھک گیا تھا۔ 

تھوڑی دیر  خاموشی کے بعد، جو پیغمبرانہ سکرو بے خبری سے مشابہ تھی ، بادشاہ نے دائیں بائیں دیکھ کر پوچھا: ہمارا شاعر کہاں ہے؟ ہم نے اسے مدت سے نہیں دیکھا، اس پر کیا بیتی؟ وہ ہر رات ہماری مجلس میں   حاضر رہتا تھا۔

ایک پادری نے عرض کی: ایک ہفتہ گزرا میں نے اسے ہیکل عشروت کے آستانے پر بیٹھے دیکھا تھا، وہ اپنی جاوید اور غم زدہ آنکھوں سے  دور شفق کو دیکھ رہا تھا، گویا اس کا کوئی قصیدہ بادلوں میں گم ہو گیا ہو۔ 

ایک درباری بولا: کل میں نے اسے بید اور سرو کے درختوں میں بیٹھے دیکھا تھا، میں نے سلام کیا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اور بدستور اپنے افکار و خیالات کے سمندر میں غرق رہا۔

خواجہ سرائوں کے داروغہ نے کہا: آج مجھے وہ محل کے باغیچے میں نظر آیا تھا، میں اس کے قریب گیا تو دیکھا رنگت پیلی پڑ گئی  ہے، چہرہ غم و ملال کی تصویر بنا ہوا ہے ، پلکوں پر آنسو مچل رہے ہیں اور سانس گھٹ گھت کر آرہا ہے۔

افسوسناک لہجہ میں بادشاہ نے حکم دیا: جائو! اے فورا تلاش کر کے لائو، مابدولت کی طبع مبارک اس کے لئے بے چین ہے۔

غلام اور  سپاہی شاعر کی تلاش میں چلے گئے اور  بادشاہ سمیت سارا دربار خاموش اور منتظر بیٹھا  رہا۔ ایسا معلوم ہوتا  تھا کہ وہ سب کمرہ کے وست میں کھڑے ہوئے ایک غیر مرئی سائے کا وجود محسوس کر رہے ہیں۔

تھوڑی دیر کے بعد خواجہ سرائوں کا داروغہ آیا اور بادشاہ کے قدموں میں گر پڑا  اس پرندہ کی طرح جسے صیاد کے تیر نے گرا لیا ہو۔

بادشاہ بے اختیار چلایا: کیا بات ہے؟؟ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر محل کے باغیچے میں مردہ  پڑا ہے۔

بادشاہ ایک دم کھڑا ہوگیا، اس کا چہرہ رنج و غم سے مرجھا گیا، وہ آہستہ آہستہ باغ کی طرف چلا، اس طرح کے آگے آگے غلاموں کے ہاتھوں میں شمعیں تھیں، اور پیچھے  پیچھے درباری اور کاہن،  باغ کے حاطے کے پاس جہاں بادام اور انار کے درخت ہیں، شمعوں کی زرد شعاعوں کی روشنی میں ایک بے جان جسم  دکھائی دیا جو گلاب کی سوکھی ہوئی ٹہنی کی طرح گھاس پر پڑا تھا۔

ایک درباری نے کہا:  دیکھنا، استاد کو کس طرح گلے لگا رکھا ہے جیسے وہ ایک حسین دوشیزہ ہے، جس سے اسے محبت تھی، اور جو اس سے محبت کرتی تھی، اور اسی محبت کی بنا پر انہوں نے عہد کر لیا تھا کہ ہم دونوں ساتھ مریں گے۔

ھسب عادت اب بھی فضا کی گہرائیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا،گویا ، ستاروں میں اسے انجان خدا کی پرچھائی نظر آرہی ہے۔کاہن اعظم نے بادشاہ مخاطب ہوتے ہوئے عرض کیِ: کل ہم اسے مقدس عشروت کے ہیکل کے سائے میں دفن کریں گے، شہر کا چھوٹا بڑا اس کی میت کے ساتھ ہوگا۔ نوجوان اس کے قصیدے گائیں گے اور  نوخیز لڑکیاں اس کے تابوت  پر پھول برسائیں گی، کیونکہ یہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا شاعر تھا، اس لیے اس کی تدفین کا جلوس بھی شاندار ہونا چاہیے۔

بادشاہ نے شاعر کے چہرے سے نگاہیں ہٹائے بغیر جس پر موت کا نقاب پڑا تھا، سر  ہلایا اور آہستہ آہستہ کہنے لگا: نہیں جب یہ زندہ تھا ، اور ملک کے گوشہ گوشہ کو  اپنی روح کی تا شیوں سے منور اور فضا کے ذرے ذرے کو اپنی سانس کی بیزیوں سے معطر کر رہا تھا، ہم نے اسے فراموش کر دیا۔ اس لیے اب اگر ہم مرنے کے بعد اس کی عزت کریں گے تو دیوتا ہمارا مذاق اڑائیں گے۔ اور وادیوں اور سبزہ زاروں کی پریاں ہم پر ہنسیں گی،بہتر یہی ہے کہ اسے یہیں دفن کرو جہاں اس کی روح اس کے جسم سے علیحدہ ہوئی ہے، اس کے ستارے کو اس کے جسم سے چمٹا رہنے دو۔ تم میں سے اگر کوئی اس کی عزت کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کے پاس جائے اور بتائے کہ بادشاہ نے اپنے شاعر سے بے اعتنائی برتی اور وہ تنہائی اور غمگینی  کے عالم میں مرگیا۔

اسکے بعد اس نے چاروں طرف دیکھ کر پوچھا: ہندی فلسفی کہاں ہے؟ 

فلسفی آگے بڑھا  اور کہا: جہاں پناہ! حاضر ہوں، 

بادشاہ نے پوچھا: بتا اے حکیم! کیا دیوتا مجھے ایک بادشاہ اور اسے ایک شاعر کے روپ میں دوبارہ اس دنیا میں بھیجیں گے؟ کیا میری روح کسی شہنشاہیت اقلیم  کے ولی عہد اور اور اس کی روح ایک بڑے شاعر کا قالب اختیار کرے گی؟ کیا قانون  فطرت اسے دوبارہ  تجلیات الہی کی جلوہ گاہ میں حاضر کرے گا؟ تاکہ میں اس پر اپنے انعام و اکرام کی بارش اور اس کے دل کو اپنی بخشش و عطا سے خوش کروں!

فلسفی نے جواب دیا: روح جو کچھ چاہتی ہے اسے ملتا ہے، وہ ناموس جو موسم سرما کے خاتمے پر بہار کی عشرت فروشیوں کو لوٹتا ہے ضرور آپ کو باجبروت  شہنشاہ اور اسے شاعر اعظم  بنا کر اس دنیا میں واپس بھیجے گا۔

بادشاہ کا چہرہ کھل اٹھا، اس کی روح میں ایک تازگی اور شادابی کروٹیں لینے لگی ، اور وہ اپنے محل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کا دماغ ہندی فلسوف کے اقوال پر غور کر رہا تھا،اور اس کا دل ان الفاظ کو دہرا رہا تھا۔

روح  جو کچھ چاہتی ہے اسے ملتا ہے۔

ملتے جلتے آرٹیکلز