اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/shayer-by-khalil-jabran

شاعر

شاعر

 

ایک کڑی ، جو اس عالم کو آنے والے عالم سے ملاتی ہے!

ایک شیریں چشمہ ، جس سے پیاسی روحیں پانی پیتی ہیں!

دریائے حسن کے کنارے ، ایک درخت ،جس کے پکے ہوئے پھل بھوکے دلوں کی غذا ہیں! 

کلام کی شاخوں پر پھدکنے والی بلبل ، جس کے نغمے  جس کی خلائوں کو رقت و لطافت  پُر کر دیتے ہیں ! ایک سفید بادل،  جو خط شفق  پر نمو دار ہو کر پھیلتا ہے، بلند ہوتا ہے، اور آسمان پر چھا جاتا ہے، پھر برستا ہے تاکہ چمن حیات کے پھولوں کو  سیراب کرے۔۔۔۔

ایک پھیلی ہوئی روشنی ، جسے تاریکی چھپا سکتی ہے، نہ اس پر غالب آسکی ہے!

ایک چراغ، جسے محبت کی دیوی ۔۔۔۔۔۔۔ عشتروت نے تیل سے بھرا  اور موسیقی کے دیوتا ۔۔۔۔۔۔ اپالو نے روشن کیا۔

ایک تنہا انسان، جس کا لباس، سادگی اور غذا لطافت ہے۔ جو شجر حیات کے سائے میں بیٹھ کر ایجاد و اخراع کا سبق پڑھتا اور رات کی خاموشی  میں جاگ کر نزول ِ روح کا انتظار کرتا ہے!

ایک کسان، جو احساسات کے مرغزار میں اپنے  دل کے بیج بوتا ہے، جو اس سرسبز کھیتی کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں ، جسے انسانیت اپنی غذا بناتی ہے۔

یہی ہے وہ شاعر ، جسے لوگ زندگی میں کوڑی کو نہیں پوچھتے اور اس کی قدر و قیمت اس وقت پہچانتے ہیں، جب وہ اس دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنے سماوی وطن کی راہ لیتا ہے۔ یہی ہے وہ، جس کے انفاس بلند ہوتے ہیں اور فضا کو زندہ اور  حسین پرچھائیوں سے لبریز کر دیتے ہیں، لیکن  انسان اسے کھانے کے لیے روٹی کے چند ٹکڑے اور رہنے کے لیے چند گز ز مین  دینے میں بھی بخل سے کام لیتا ہے۔

اس انسان! کب تک؟ ۔۔۔۔۔ اے کارگاہ وجود! کب تک ان لوگوں کے لیے فخر و مسرت سے مکان بناتی رہے گی جو زمین کو خون کے چھینٹوں سے رنگین کرتے ہیں؟ اور کب تک بے پرواہی سے ان لوگوں کو نظر انداز کرتی رہے گی ، جو ذاتی خوبیوں سے تجھے امن و سلامتی کا تحفہ دیتے ہیں ، تو کب تک قاتلوں اور ان لوگوں کی تعظیم کرتی رہے گی، جو اپنی گردنوں پر غلامی کا جوا رکھ لیتے ہیں۔اور کب تک ان ہستیوں کو فراموش کرتی رہے گی ، جو رات کی تاریکی میں اپنی آنکھوں کا نور برساتی ہیں تاکہ تجھے دن کی روشنی کا نظارہ کرنا سکھائیں اور ساری عمر بد بختی کے چنگل میں پھنسی رہتی ہیں اس خیال سے کہ کہیں  تو خوش بختی کی لذت  کو نہ گنوا بیٹھے!۔۔۔۔

اور تم ، اے شاعر!۔۔۔۔ اس زندگی کوزندگی کا روپ دینے والو!  تم قوموں کی سنگدلی سے تنگ آکر قوموں پر غالب آگئے ہو اور غرور کے کانٹوں سے غضب ناک ہو کر  تم نے تاجوں کو تتر بتر کر دیا ہے!اے شاعر! تم نے دلوں پر قبضہ جمالیا ہے اور تمہارے قبضہ کی کوئی حد نہیں ہے۔

ملتے جلتے آرٹیکلز