اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/shetan

شیطان

شیطان

 

سمعان پادری روحانیت کا عالم تھا اور لاہوتی مسائل کا بحر بیکراں،صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا رمز شناس اوردوزخ،اعراف اور بہشت کےرازوں کا امین 

وہ شمالی لبنان کےایک ایک گاوں میں جاتا،وعظ کہتا اورلوگوں کو شیطانی پھندوں سےنکال کر ان کی ذہنی بیماریوں کا علاج کرتا تھا۔ اس کی ان کوششوں نے شیطان کو ان کا دشمن بنا دیا  اور وہ شب و روز اس  سے بر سر پیکار رہنے لگا۔

دیہاتی، پادری کی بےانتہا عزت کرتےاور سونےچاندی کے عوض اس کی دعائیں اور نصیحتیں حاصل کرکے خوش ہوتےتھے۔ ان میں سےہرایک کی ککوشش ہوتی کہ اپنےباغ کےبہتر سےبہتر پھل اور کھیتوں کی بہتر پیداوار اس کی خدمت میں پیش کرے۔

موسم خزاں کےایک دن کا ذکر ہے کہ پادری گاوں کی طرف ایک ویران مقام سےگزر رہا تھاکہ اچانک سڑک کی ایک طرف سے اس کےکانوں نے ایک دردناک آواز سنی۔اس نےمڑ کردیکھا کہ ایک برہنہ شخص پتھروں پر پڑا تھا،اس کا جسم گہرے زخموں سے بھرا ہوا تھاجس سے خون بہ رہا تھا۔

مجروح شخص التجا آمیز لہجے میں پکار رہا تھا۔مجھےبچاومیں مررہا ہوں،مجھ پر رحم کرو۔

پسمعان پادری اس منظر سے حیرت زدہ ہو کر ٹھہر گیا ۔ اور اس درد سے بے چین شحص کی طرف دیکھا  پھر اپنےدل میں کہنے لگا۔

یہ کوئی سنگدل ڈاکو معلوم ہوتا ہے،کسی کو لوٹنے کی کوشش میں اس حال کو پہنچ گیا۔اگریہ یہاں میری موجودگی میں مرگیا تومیں ناکردہ گناہ میں خوامخواہ پکڑاجاوں گا۔یہ سوچ کر اس نے آگے بڑھناچاہا لیکن مجروح شخص نے اس سے کہااگرتو مجھےچھوڑ کر چلا گیاتومیں مرجاوں گا۔کیونکہ تو مجھے جانتاہےاورمیں تجھے جانتا ہوں۔پادری کی رنگت پیلی پڑ گئی اور ہونٹ کانپنے لگے ، اس نے خود سے کہا:

یہ کوئی دیوانہ ہےجو اکثر جنگل میں بھٹکتے رہتے ہیں۔اس نے اپنے خیالات کا رخ بدلا اور پھر اپنے دل سے کہنے لگا

اس کے زخموں کا منظر  مجھے خوفزدہ کر رہا ہے۔لیکن میں اس  کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ روحانی طبیب جسمانی بیماریوں کا علاج نہیں کر سکتا

پادری نے جانے کے ارادے سے دو چار قدم اٹھائے ،اور مجروح پتھر کو پگھلا دینے والی آواز میں چلایا:

میرے قریب آ! ہم عرصہ دراز سے ایک دوسرے کے دوست ہیں ،تو سمعان پادری ہے ،پاکباز اعظم !اور میں

میں نہ چور ہوں نہ ہی دیوانہ ہوں،مجھے اس جنگل میں تنہا مرنے لے لیے نہ چھوڑ! ۔میرےنزدیک آو،میں تجھے بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں؟سمعان پادری اس کے قریب جھک کراسےغورسےدیکھنےلگا۔مجروح کےخدوخال عجیب تھے۔اس کےچہرےسےذہانت کےساتھ عیاری،دلکشی کےساتھ کراہت،اورنرمی کےساتھ خباثت نمایاں تھی۔سمعان پادری جھجھک کرپیچھےہٹااور چلا کر کہاکہ تو کون ہے؟

مجروح شخص نے دھیمی آواز میں  کہا:

مقدس باپ ! اےپادری مجھ سے خوف نہ کھا،ہم دونوں بہت پرانے دوست ہیں مجھے اٹھا اور کسی قریبی نہر پر لے جا کر اپنے رومال سے میرے زخم دھو دے۔پادری نے بلند آواز میں کہا:

مجھے بتا کہ تو کون ہے؟ میں تجھے نہیں جانتا اور نہ مجھے یہ یاد پڑتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں تجھے کہیں دیکھا ہے!

مجروح نے جواب دیا ، اس طرح کہ موت کی خرخراہٹ اس کی آواز میں شامل تھی۔تو جانتا ہے کہ میں کون ہوں ؟ تو مجھ سے ہزاروں بار مل چکا ہے اور ہر جگہ تو نے میری صورت دیکھی  ہے۔میں مخلوق میں سب سےزیادہ تجھ سے قریب ہوں،بلکہ میں تجھے تیری زندگی سےزیادہ عزیز ہوں۔

پادری نے چلاتے ہوئے کہا: تو جھوٹا اور فریبی ہے حالانکہ مرتنے والے کو سچ بولنا چاہیے! میں نے اپنی زندگی میں کبھی تیری صورت نہیں دیکھی ۔ بتا تو کون ہے ورنہ میں تجھے چھوڑ کتر چلا جائوں گا  اور تو خون بہتے بہتے مر جائے گا۔

مجروح شخص نے قدرے حرکت کی  اور پادری کی آنکھوں میں نہایت  غور سے دیکھتے ہوئے،لبوں پر معنی خیز تبسم بکھیرتےہوئے،بڑےہی نرم وشیریں اورگہرےلہجےمیں کہا

"میں شیطان ہوں"

پادری یہ سن کر ایک ہولناک چیخ مار ی ، جس سے وادی کا ذرہ ذرہ لرز اٹھا  پھر اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ اس فیصلے کی روشنی میں ، جو گائوں کے کلیسا کی دیواروں پر لٹکا ہوا تھا۔پادری نےاب اور زیادہ غور سےدیکھاتواسےمجروح شخص کاجسم اپنی ترکیب اورآثارکی بناپرابلیسی ہیئت پر منطبق

ہوتا ہے ۔پکانپتےہوئے چلایا 

خدانےمجھےتیری جہنمی صورت اس لیئےدکھائی کہ میرےدل میں تیری کراہت اور بڑھ جائے۔تجھے ابدالا باد تک مردود  و ملعون ہی رہنا چاہیے 

شیطان نے کہا:

اےمقدس باپ!جلدبازی سےکام مت لےاوربےہودہ گفتگو میں وقت ضائع نہ کر!میرےقریب آ اور اس سے پہلے  کہ میری زندگی خون کی شکل میں  میرے جسم سے بہہ جائےکر میرےزخموں پر مرہم رکھ!۔

پادری نےجواب دیا:

وہ ہاتھ جو خدا سےدعاوں کےلیئےاٹھتےہیں تیرےجہنمی شراروں سےبنےہوئےجسم کوکبھی نہیں چھوسکتے۔تو زمانے اور انسانیت کا دشمن ہے،اس لیئےتجھےمرنا ہی چاہئے، اس حالت میں کہ زمانہ تجھ پر لعنت بھیجے اور دنیا کو ہونٹ تجھے ملامت کریں۔

شیطان نےبےچین ہوکرکہا:

"تو نہیں جانتا کہ تو کیاکہ رہا ہے؟تجھےنہیں معلوم کہ تو کس گناہ کا مرتکب ہورہا ہے؟"

سن ! میں تجھے اپنی کہانی سناتا ہوں ۔ آج ان وادیوں میں تنہا چلا جا رہا تھا ، جب یہاں پہنچا تو کم ظرف فرشتوں کی ایک جماعت سے دو چار ہوا۔ وہ سب کے سب مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مجھے زخمی کر دیا۔ اگر ان میں سے ایک فرشتے کے پاس دو دھاری تلوار نہ ہوتی تو میں یقینا ان سب کو مار گراتا ، لیکن مسلح کے مقابلے میں نہتا کیا کر سکتا ہے؟

شیطان تھوڑی دیر  کے لیے خاموش ہو گیا اور اس نے اپنا ہاتھ پہلو کے ایک گہرے زخم پر رکھ لیا۔ دوبارہ اس نے کہنا شروع کیا:

لیکن وہ مسلح فرشتہ جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ وہ میکائیل تھا ، بڑا پھر تیلا اور تلوار چلانے میں کمال رکھتا تھا۔ یہ واقعہ ہے کہ اگر میں زمین پر نہ گر پڑتا اور میری حالت مردوں کی سی نہ ہو جاتی  تو میرا ایک ایک عضو  علیحدہ نظر آتا۔

فتخ مندانہ لہجے میں  پادری  نے کہا:

خدا میکائیل کا مرتبہ بلند کرے کہ اس نے انسانیت کو اس کے بد ترین دشمن سے نجات دلا دی۔

شیطان نے جواب دیا۔

انسانیت سے میری دشمنی اس قدراندھی نہیں ہے۔جس قدرخودتیری دشمنی تیری ذات سے ہے۔تو میکائیل کو مبارک باد دے رہا ہے  حالانکہ اس نے تیرے ساتھ  رزمہ برابر سلوک نہیں  کیا اور بیچارگی کے عالم میں  میرے نام پر لعنت  بھیج رہا ہے  حالانکہ میں تو تیری راحت وکامرانی کا دیرینہ سبب ہوں۔ کیا تو میری عنایتوں اور احسانوں سے سے انکار کر رہا ہے؟ ایسی حالت میں جبکہ تو میرے ہی سایہ میں پل رہا ہے! کیایہ میرا ہی وجود نہیں ہے؟

جس نےتیرے لیئےایک پیشہ وضع کیا؟کیایہ میرانام نہیں،جس نے تیرے اعمال کے لیئے ضابطہ بنایا؟کیا میرے ماضی نے  تجھے میرے حال اور مستقبل سے بے نیاز کر دیا ہے ؟ کیا تیری دولت اور ثروت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اب اس میں اضافہ کی مطلق گنجائش نہیں ؟ کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے بیوی بچے  اور عزیز و اقارب مجھے کھونے سے اپنا رزق کھو دینگے،بلکہ میرےمرنےسےبھوکےمرجایئنگے؟

توکیاکریگااگر مشیت مجھے فناکردیگی؟توکونساپیشہ اختیار کریگا،اگر زمانےکی آندھیاں میرےنام کومٹاڈالیں گی؟

تو لوگوں  کو میری پیدا کردہ مصیبتوں اور پھندوں سے بچانے کے لیے پچیس برس سے ان کو ہستانہ دیہاتوں میں جھومتا پھر رہا ہے،  اور لوگ تیرے وعظوں  کو دولت اور غلہ کے عوض خرید رہے ہیں۔بتا! اگر کل  انہیں معلوم ہو گیا کہ ان کا دشمن شیطان مر گیا ہے اور اب وہ اس کے پھندوں سے آزاد ہیں تووہ تجھ سے کیاخریدیں گے؟اگرتیرایہ وظیفہ جوشیطان سےمقابلہ کرنے کے سلسلے میں تجھے ملتاہے،میرےمرنےسےیہ بندہوجائےتو تجھےکس بات کاوظیفہ دینگے۔اےپادری تو لاہوتی مسائل کارمزشناس ہے۔تواتنابھی نہیں جانتاکہ،"شیطان"کاوجودہی اسکےدشمنوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزہبی پیشواوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی تخلیق کا سبب ہےاور یہ"پرانی عداوت"گویاایک"مخفی ہاتھ"ہے۔جو سونے چاندی کو"ایمان پرستوں"کی جیب سےواعظوں اورمرشدوں کی جیب میں منتقل کرتاہے۔کیاتواتنابھی نہیں جانتاکہ"سبب کےزوال سےمسبب خودبخودزائل ہوجاتاہے؟"

پھرتومیرےمرنےسےاتناخوش کیوں ہے؟جبکہ میری موت تجھےاپنےمرتبےسےگرادیگی،تیرارزق بندکردیگی اورتیرے بیوی بچوں کےمنہ سے روٹی کا ٹکڑا چھین لےگی۔"

شیطان ایک منٹ کےلیئےخاموش ہوگیا۔اسکےچہرےپر مہربانی کےبجائےاستقلال جھلک رہاتھا۔اس نے پھر کہنا شروع کیا:

دیکھ او مغرور جاہل! میں تجھے اس حقیقت کی تصویر دکھاتا ہوں جس نے میری ہستی کو تیری ہستی میں ضم کر دیا ہے اور میرے وجود کو  تیرے وجدان سے مربوط !  آفرینش عالم کی ابتدائی ساعت میں  انسان سورج کے سامنے کھڑا ہوا اور  اپنا ہاتھ اٹھا کر پہلی بلند آواز سے کہا:

آسمان سے پرے خدائے جلیل ہے ، جو نیکی سے محبت کرتا ہے!۔ پھر اس نے روشنی کی طرف پیٹھ کر لی اور اپنا سایہ زمین پر پڑتا دیکھ کر  چلایا:اور  زمین کی تہوں میں مردہ شیطان ہے، جو بدی سے خوش ہوتا ہے !  اس کے بعد وہ اپنے غار میں چلا  دل ہی دل میں یہ کہتا ہوا۔ میں دو  ہولناک  خدائوں کے درمیان ہوں۔ ایک خدا وہ ہے جس سے میں منسوب ہوں اور دوسرا وہ جو دوسرے خدا سے بر سر پیکار ہے۔زمانہ پر زمانہ چلتا گیا ، لیکن انسان دو قوتوں میں گھِرا رہا۔ایک وہ قوت جو اس کی روحکو بلندیوں پر لے جاکر برکت دیتی ہے اور دوسری وہ قوت ، جو اس کے جسم کو تاریکیوں میں ڈوب کر ملعون بناتی ہے۔ تاہم وہ نہ برکت کے معنی سے واقف تھا نہ لعنت کے مفہوم سے آشنا۔بلکہ وہ ان دونوں قوتوں کے درمیان اس درخت  کی مثال تھا، جو گرمی اور جاڑے کے درمیان ہو۔ گرمی جو اسے دھانی پوشاک پہناتی ہے اور گاڑا ، جو اسے ننگا بو چا کر دیتا ہے۔ 

آخرکار  جب وہ صبح تمدن ۔الفت بشری  سے دوچار ہو ا تو پہلے اس نے اپنے خاندان کی بنیاد ڈالی پھر قبلہ کی ۔ اب اس کے مشاغل میلانات کے فرق کی بنا پر مختلف ہوگئے ،اور صنعتیں ، مزاج و مذاق کے اختلافات کی بنا پر مختلف ۔ چنانچہ ایک قبیلہ کے بعض افراد نے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کر لیا بعض نے معماری کا۔بعض کپڑا بننے  لگے اور بعض کانیں کھودنے لگے۔اسی قدیم زمانے میں کہانت نمودار ہوئی اور یہ پہلا پیشہ تھا جسے انسان نے بغیر کسی فطری ضرورت کے ایجاد کیا۔شیطان ایک منٹ تک خاموش رہا ، پھر اس  نے ایک قہقہہ لگایا جس سے وادی کا گوشہ گوشہ گونج اٹھا۔ اس نے کراہتے ہوئے اپنے پہلو کو ہاتھ سے دبالیا ،گویا قہقہہ نے اس کے زخموں کے منہ کھول یئے ہیں اور سمعان پادری کو غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا:

کہانت نے اس زمانے میں جنم لیا ، لیکن کس طرح ؟ ییہ بھی ابھی بتاتا ہوں ۔ دنیا کے اس ابتدائی قبیلے میں ایک شخص لادیص  تھا۔ میں نہیں سمجھ سکا اس نے یہ عجیب و غریب نام اپنے لیے کیو ں پسند کیا تھا؟

بہر حال وہ نہایت  ذہین مگر نہایت جھوٹا اور سست آدمی تھا ، جسے زراعت ،معماری ،گلہ بانی، شکار غرض ہر کام سے نفرت تھی۔جس میں قوت بازو یا جسمانی حرکت کی ضرورت ہو اور چونکہ اس زمانے میں بغیر  ہاتھ پائوں ہلائے رزق ملنا دشوار نہیں ، ناممکن تھا۔ اس لیے اس کی اکثر راتیں بھوک کی شدت سے جاگتے ہوئے کٹتی تھیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے گرمیوں کی رات تھی۔اس قبیلہ کے افراد  اپنے سردار کے مکان کے گرد بیٹھے ، اپنی اپنی زندگی کے واقعات دہرا رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ نیند آجائے۔اچانک ان میں سے ایک شخص کھڑا  ہوا اور چاند کی طرف اشارہ کر  کے خوفناک آواز میں چلانے لگا:

ذرا چاند دیوتا کو تو دیکھو ! اس کا چہرہ ماند پڑ گیا ہے اور روشنی کس حد تک زائل ہوگئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی گنبد میں ایک سیاہ پتھر لٹک رہا ہے۔

لوگوں نے چاند پر نظریں جمائیں اور یہ دیکھ کر  کے ان کی رات کا دیوتا  آہستہ آہستہ ایک سیاہ کرہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ  کہ زمین کی رنگت بدل رہی ہے بلکہ وادیاں اور ٹیلے بھی ایک سیاہ چادر میں چھپتے جا رہے ہیں، خوف و دہشت سے کانپتے چلانے لگے ،گویا دست ظلمت نے ان کے دلوں کو دبوچ لیا ہے۔

اس وقت لادیص ،جو اس سے پہلے کئی بار کسوف و خسوف کے مناظر دیکھ چکا تھا ،آگے بڑھا، اور لوگوں کے وسط میں جا کر ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا دیے۔ اس نے بلند آواز میں کہاجس سے اس کی ذہانت ،تضع اور عیاری صاف نمایاں تھی۔

لوگوں سجدہ کرو ! سجدہ کرو  اور آسمانی امداد کے لیے دعائیں مانگو!اپنی پیشانیاں زمین پر رگڑو ،کہ بدی کا تاریک دیوتا روشن دیوتا سے نبرد آزما ہے۔اگر وہ غالب آگیا تو ہم مر جائیں گے  اور اگر مغلوب ہو گیا تو زندہ بچ جائیں گے۔سجدہ کرو ! دعائیں مانگو ! اپنی پیشانیاں زمین پر رگڑو ، بلکہ اپنی آنکھیں بند کر لو اور سجدے سے سر نہ اٹھائو! اس لیے کے اگر تم  میں سے کسی نے تاریکی کے دیوتا کو روشنی کے دیوتا سے لڑتے دیکھ لیا تو وہ اپنی بصارت اور بصیرت کھو دے گا۔اور آخر عمر تک اندھا اور پاگل ہو رہے گا۔

لوگو! سجدہ کرو  اور اپنے دلوں کی قوت سے روشنی کے دیوتا کو  اس کے دشمن کے خلاف مدد پہنچائو۔

لادیص اسی لہجے میں بولتا رہا ۔ وہ اپنے  دماغ سے نئے نئے الفاظ تراش رہا تھا۔ جو اس رات سے پہلے کسی نے نہیں سنے تھے۔ یہاں تک کے آدھا گھنٹہ گزر گیا اور چاند اپنی اصلی خالت پر آگیا۔ اب لادیص کی آواز پہلے سے بلند ہو گئی اور اس نے مسرت و کامرانی کے لہجے میں کہا:

لوگو! اٹھو اور دیکھو ! رات کا دیوتا اپنے شریر  دشمن پر غالب آچکا ہے۔اور اب ستاروں کی سیر میں مصروف ہے۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم نے اپنی نمازوں اور دعائوں سے  رات کے دیوتا کو مدد پہنچا کر خوش کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ تم اسے زیادہ روشن اور تابناک دیکھ رہے ہو۔

لوگوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور چاند کو نہایت غور سے دیکھنے لگے ۔اس کی روشن شعائوں نے ان کے خوف اور اضطراب کو  مسرت اور اطمینان سے بدل دیا  اور وہ مارے خوشی کے اچھلنے کودنے اور ناچنے گانےلگے۔وہ اپنی لکڑیوں سے لوہے اور تانبے کے گھنٹے بجا رہے تھے، اور وادی کی تمام  فضا ان کی  پر مسرت چیخ و پکار سے گونج رہی تھی۔

اسی رات قبیلے کے سردار نے لادیص کو بلایا اور کہا:

آج کی رات تم نے وہ کام کیا ہے ، جو تم سے پہلے کوئی انسان نہ کر سکا۔تم زندگی کے ان اسرار سے واقف ہو جو تمہارے سوا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا ۔خوش ہو جائو! کہ میرے بعد  اس قبیلہ کے سب سے بڑے آدمی تم ہو۔ میں لوگوں سے اگر اپنی بہادری اور قوت کی بنا پر ممتاز ہوں ،تو تم اپنی عقل و فراست کے لحاظ سے ہم سب پر فوقیت رکھتے ہو۔یہی نہیں بلکہ تم میرے اور دیوتائوں کے درمیان ایک واسطہ ہو۔

 

تم مجھے ان کی مرضی سے  باخبر کرو گے ، ان کے اعمال و اسرار مجھ پر طاہر کرو گے اور مجھے مشورہ دو گے کہ میں ان کی محبت و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا کروں؟

لادیص نے جواب دیا:

دیوتا جو کچھ مجھے خواب میں بتائیں گے میں بیداری میں حضور سے عرض کردوں گا ، اور جو راز وہ مجھ پر منکشف کریں گے میں وہ  آپ پر ظاہر کردیا کروں گا۔ہاں ! میں آپ کے اور دیوتائوں کے درمیان ایک واسطہ ہوں ۔

سردار کی باچھیں کھل گئیں اور اس نے لادیص کو دو شاندار گھوڑے ، سات بچھڑے ،ستر بھیڑیں اور ستر بکریاں عطا فرما کر کہا:

قبیلہ کے لوگ تمہارے لیے ایک ایسا ہی مکان تیار کر دیں گے جیسا کے میرا ہے۔ اور ہر موسم کے خاتمہ پر اپنے باغوں کے پھل  اور کھیتوں کی پیداوار تمہاری خدمت میں نذرانے کے طور پر پیش کریں گے۔ اس طرح تم سرداروں کی طرح نہایت عزت کی زندگی بسر کرو گے۔

لادیص جانے کے لیے اٹھا لیکن سردار نے یہ کہہ کر اسے ٹھہرا لیا:

لیکن یہ دیوتا کون ہے ؟ جسے تم بدی کا دیوتا کہتے ہو؟ کیا یہ وہی دیوتا ہے جس نے رات کو روشن دیوتا سے مقابلہ کی جرات کی تھی؟ ہم نے اس کے متعلق کچھ بھی نہیں سنا نہ ہمیں اس  کے وجود کا علم ہے۔

لادیص نے تھوڑی دیر سر کھجانے کے بعد جواب دیا:

پرانے زمانے میں انسان کی پیدائش سے پہلے ، تمام دیوتا ،کہکشاں سے پرے ایک دور دراز مقام پر نہایت امن و خلوص کے ساتھ رہتے تھے۔مہادیو جو ان سب کا باپ تھا ، علم و عمل میں ان سب پر امتیاز رکھتا تھا، اور اس نے اپنی زات کے لئے  بعض خداوندی  اسرار محفوظ کر رکھے تھے، جو ناموس ازلی کے پردہ میں روپوش ہیں۔چنانچہ بارہویں زمانے کے ساتویں عہد میں بعطار نے، جو مہادیو سے نفرت کرتا تھا ،بغاوت کی اور اس کے مقابلے پر آکر کہا:

تو نے ہم سے ہستی ، ناموس، اور زمانہ کے اسرار پوشیدہ رکھ کر مخلوقات پر اپنا مطلق اقتدار کیوں قائم کر رکھا ہے؟کیا ہم تیری اولاد نہیں ہیں؟اور کیا تیری قوت اور دوام میں ہماری شرکت نہیں ہے؟

مہادیو غصہ سے کانپ اٹھا اور اس نے کہا:

میں تمام بنیادی اسرار ،مطلق اقتدار اور اولین قوت ابدالا باد تک اپنے لئے محفوظ رکھوں گا، اس لئے کہ میں ہی آغاز ہوں اور میں ہی انجام ہوں۔

معطار نے کہا:اگر تو اپنی قوت اور جبروت تقسیم کرنے پر تیار نہیں تو میں اور میری اولاد تیرے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہیں۔

شدت غضب سے مہا دیو اپنے تحت پر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے ایک ہاتھ سے کہکشاں کی تلوار کھینچی اور دوسرے ہاتھ میں آفتاب کی ڈھال لے لی۔ پھر نہایت خوفناک آواز میں جس سے دنیا کا ذرہ ذرہ کانپ اٹھا ۔چلایا:

اچھا! اگر یہ بات ہے تو اے شریر اور باغی میں تجھے اس  پست و ذلیل دنیا میں پھیکتا ہوں ، جہاں تاریکی ہے اور بد بختی ۔ جا !  جب تک سورج راکھ کا ڈھیر اور ستارے  فضا کے منتشر ذروں میں نہ تبدیل ہو جائیں ، وہاں اپنی جلا وطنی کے دن ، آوارگی اور گم کرد ہ راہی میں گزار!

اسی لمحہ بعطار دیوتائوں کے مسکن سے اس  پست  عالم میں پھینک دیا گیا، جہاں خبیث روحیں رہتی ہیں۔اور اس نے مہا دیو کی دوامی اسرار کی قسم کھا کر فیصلہ کیا کہ وہ ابد تک اپنے باپ اور  بھائیوں کے خلاف بر سر پیکار رہے گا۔اور ہر شخص کو گمراہ کرے گا جو اس کے باپ سے  محبت کرتا ہے، اور اس کے بھائیوں کا ارادت مند ہے۔

سردار کا رنگ زرد پڑ گیا اور اس نے ماتھا سکیڑ کر کہا:

اچھا تو بدی کے دیوتا کا نام بعطار ہے۔ لادیص نے جواب دیا:

اس کا نام بعطار اس وقت تھا ، جب وہ دیوتائوں کے مسکن میں رہتا تھا ،لیکن اس عالم میں پھینک دئے جانے کے بعد اس نے اپنے بہت سے نام رکھ لیے ہیں۔مثلا معلز بول،ابلیس،مطنائیل، بلیال ،زمیال،اہرمن ،مارہ، ابدون اور شیطان۔لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور نام شیطان ہے۔

سردار نے شیطان کا نام کئی بار دھرایا ۔اس کی آواز اس طرھ کانپ رہی تھی ،معلوم ہوتا تھا ہوا کے جھونکوں سے خشک پتوں میں سرسراہٹ پیدا ہو رہی ہے اس نے پوچھا : لیکن شیطان تو دیوتائوں کا مخالف ہے لیکن اسے انسان سے نفرت کیوں ہے؟

لادیص نے جواب دیا:

شیطان اس لیے انسان کی تباہی اور بربادی کے درپے ہے کہ وہ اس کے بہن بھائیوں کی اولاد ہے!۔

حیرت آمیز لہجے میں سردار نے کہا: اچھا تو شیطان انسان کا چچا بھی ہے اور ماموں بھی ۔

تشویش کے عالم میں لادیص نے جواب دیا:  جی ہاں ! لیکن وہ اس کا سب سے بڑا دشمن اور کینہ پرور نگران ہے۔جو اس کے دنوں کو بد بختی اور راتوں کو  خوفناک خوابوں سے گرانبار کرتا رہتا ہے۔وہ ایک قوت ہے جو آندھیوں کے ذریعے انسان کے گھروں کو جر بنیاد سے اکھاڑ پھیکتی ہے۔قحط سالی کے ذریعہ اس کے کھیتوں کو اجاڑ دیتی ہے،وبائوں کے ذریعے اس کے مویشیوں کو مار ڈالتی ہے،اور بیماری کے ذریعے اس کے جسم کو ناکارہ کر دیتی ہے۔وہ ایک طاقتور لیکن بے ایمان اور دغا باز دیوتا ہے، جو ہماری مصیبتوں سے خوش اور  مسرتوں سے غمگین ہوتا ہے۔ اس لیے ہم پر فرض ہے کہ اس کی فطرت کے ایک ایک گوشے کو سمجھیں۔اس کی ذہانت کے ایک ایک راز سے واقف ہوں تاکہ اس کے حیلہ اور شر سے محفوظ رہیں۔

سردار نے لکڑی کا سہارہ لیتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا:

اس عجیب و غریب قوت کے مخفی راز ، آج میری سمجھ میں آئے جو آندھیوں کی صورت میں ہمارے گھروں کو تباہ کرتی  اور وبائوں کی شکل میں ہمارے  مویشیوں کو موت کی گھاٹ اتارر تہ ہے۔لادیص مجھے یقین ہے کہ آج جو راز تم نے مجھ پر منکشف کئے کل تمام آدمیوں پر ظآہر ہو جائیں گے۔ اور وہ سب تیرے حضور ہدیہ عقیدت و نیاز پیش کریں گے۔کہ تو نے انہیں ان کے سب سے بڑے دشمن کے اسرار سے ان کو آگاہ کیا اور بتایا کہ اس کے پھندوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

لادیص نے سردار سے اجازت چاہی اور اپنی عقل و ذہانت سے مخمور و شادماں اپنے گھر چلا گیا ۔لیکن سردار  اور قبیلہ کے  دوسرے افراد ساری رات پریشان خوابوں اور خوفناک تصورات  کی بنا پر چونکتے اور جاگتے  رہے۔

مجروح شیطان تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔سمعان پادری اسے ٹکٹی باندھ کر  دیکھ رہا تھا۔اس کی آنکھوں میں حیرت اور استنجاب کا جمود تھا اور ہونٹوں پر موت کا تبسم!

شیطان نے پھر اپنے سلسلہ گفتگو کا آغاز کیا :

کہانت نے اس طرح دنیا میں جنم لیا  اور اس طرح میری ہستی اس کے ظہور کا سبب ہوئی۔ لادیص پہلا شخص تھا جس نے میری دشمنی کو باقاعدہ ایک پیشہ بنایا، لادیص کی موت کے بعد اس کی اولاد کے ذریعے یہ پیشہ رواج پا گیا، اور نشو اور ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک نازک اور مقدس  فن بن گیا، جسے صرف وہی لوگ اختیار کر سکتے تھے جن کی عقل تیز ، روح شریف ،دل پاک  اور خیال وسیع ہوں !چنانچہ بابل میں  لوگ اس کاہن کو سات مرتبہ سجدہ کرتے تھے۔جو اپنے منتروں کے ذریعے مجھ سے نبرد آزما ہو تا تھا۔نینوا میں اس شخص کو انسان اور دیوتائوں کے درمیان ایک سنہری کڑی سمجھتے تھے، جو میرے اسرار اور رموز سے واقفیت کا دعوی   کرتا تھا۔

شب میں اسے چاند سورج کا بیٹا کہتے تھے  جو مجھ سے برسر پیکار ہوتا تھا۔بابل ،افس اور انطاکیہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے  اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے تھے۔ جو مجھ سے خصوصیت رکھتے اور یروشلم اور رومہ میں اپنی جانیں اس کے حوالے کر دیتے تھے۔ جو مجھ سے نفرت اور دوری کے اظہار کے لیے طرح طرح کے کمالات ظاہر کرتا تھا۔غرض یہ کہ ہر شہر میں جو اس پر آباد ہوا ،میرا ہی نام مذہب ،علم، فن اور فلسفہ کے دائروں کا مرکز رہا۔ چنانچہ عبادت گاہیں میرے زیر سایہ قائم ہوئیں۔مدارس اور تعلیم گاہوں کی بنیاد میرے مظاہر پر رکھی گئی۔محلوں اور برجیوں نے رفعت و بزرگی میرے مرتبہ کی بلندی سے حا صل کی۔میں ایک قوت ہوں جو انسان میں  عزم و ارادہ پیدا کرتی ہے۔ میں ایک تصور ہوں جو انسان کے ہاتھوں  کو حرکت میں لاتا ہے۔ میں ازلی اور ابدی شیطان ہوں ہاں وہ شیطان جو انسان  سے اس لیے مقابلہ کرتا  رہتا ہے کہ وہ زندہ رہے۔ورنہ اگر وہ میرے مقابلے سے بے نیاز  ہو جائے  تو بے شغلی اس کے افکار کو زنگ آلود کردے گی، سستی اس کی روح کو گھن  لگا دے گی، اور راحت اس کے جسم کو فنا کردے گی۔

میں ازلی اور ابدی شیطان ہوں !وہ پُر جوش لیکن خاموش آندی جو مردوں کے دماغ اور عورتوں کے سینہ میں طوفان برپا کر کے  ان کی عقلوں اور دلوں کو بت خانوں اور خانقاہوں کی طرف اڑا کر لے جاتی ہے۔تا کہ وہ مجھ سے خوف کھا کر میرے اقتدار کا لوہا مانیں، یا پھر ہو سنا کی  و بدکاری کے اڈوں کی طرف ، تاکہ وہ میری مرضی کے آگے سر جھکا  کر مجھے مسرور اور سادکام کریں۔چنانچہ وہ پادری جو رات کی خاموشی میں دعائیں مانگتا ہے، اس لیے کہ مجھے اپنے بستر سے دور رکھے، سر حقیقت اس کسبی کی مثال ہے،جو مجھے ! اپنے بستر پر بلانے کے لیے گڑ گڑاتی ہے۔

میں ازلی اور ابدی شیطان ہوں ! جس نے بت کدوں اور خانقاہوں کی بنیاد خوف و دہست پر رکھی اور شراب خانوں اور چکلوں کو  لذت اور حوس رانی کی اساس پر قائم کیا، اس لیے اگر میرا وجود فنا ہو گیا، تو دنیا سے لذت و خوف بھی فنا ہو جائیں گے۔جانے ہو! لذت و خوف کے فنا ہو نے سے کیا ہوگا؟ یہ ہو گا کہ انسان کے سدل کی تمام امیدیں اور آرزوئیں فنا ہو جائیں گی  اور زندگی ویران اور بے کیف ہو کر رہ جائے گی، جیسا بو سیدہ سرنگی جس کا ایک تار سلامت نہ رہا ہو۔

میں ازلی او ر ابدی شیطان ہوں !گناہوں کا سر چشمہ! اگر گناہ مٹ جائیں تو اس سے مقابلہ کرنے والے بھی مٹ جائیں گے، ان کے ساتھ تیری اولاد، تیرے پیروکار اور عقیدت مند بھی ، ہاں ! میں گناہوں کا سرچشمہ ہوں! تو کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میرے مٹنے سے گناہ بھی مٹ جائیں؟ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ  انسانی حرکت بھی رک جائے ؟ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ سبب کے ساتھ  مسبب بھی  زائل ہوجائے؟ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں ، جو اس دنیا کی چہل پہل  کا بنیادی سبب ہوں ، اس ویران جنگل میں مر جائوں ؟

جواب دے! اے لاہوتی مسائل کے عالم  بے ہمتا! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ وہ اولین تعلق  ختم ہو جائے ، جو میرے اور تیرے درمیان ہے؟

شیطان نے اپنے بازو پھیلائے اس کی گردن آگے کی طرف جھک گئی،اور وہ دیر تک کراہتا رہا۔ اپنے سبزی مائل منیالے رنگ میں وہ ایسا معلوم ہو رہا تھا ، جیسے نیل کے کنارے مصری مجسمہ ! جو زمانے کی دستبرد سے بچ گیا ہو۔اس نے سمعان پادری کو اپنی شعلہ فگن نظروں سے گھورا اور کہا:

گفتگو نے مجھے نڈھال کر دیا ہے، حالانکہ میرے زخموں کا تقاضا یہ تھا کہ  تجھ سے زیادہ باتیں نہ کروں ۔ کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ میں نے تیرے سامنے  اس حقیقت کی تو ضیح کی ہے، جسے تو خود مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور وہ باتیں بیان کی ہیں  جو میری مصلحتوں کے مقابلہ میں تیری مصلحتوں سے زیادہ قریب ہیں ! اب جو تیرا جی چاہے کر! مجھے پیٹھ پر اٹھا کر گر لے جا اور میری مرہم پٹی کر یا یہں پڑا رہنے دے کہ میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائوں ۔

شیطان گفتگو کر رہا تھا اور سمعان پادری  سر سے پائوں تک کانپ رہا تھا۔حیرت و پریشانی کے لہجہ میں ہاتھ ملتے ہوئے کہا:

مجھے  وہ راز معلوم ہو گیا ، جو اب سے ایک گھنٹہ پہلے معلوم نہ تھا ۔ میری نادانی کو معاف فرما! اب میری سمجھ میں آگیا کہ تو دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا گیا ہے اور  آزمائش ایک کسوٹی ہے، جس کے ذریعہ اللہ انسان کی قدر و قیمت پہچانتا ہے۔ بلکہ ایک ترازو ہے، جس میں خدائے بزرگ و بر تر روح کو تول کر، اس کے ہلکے یا بھاری ہونے کا  اندازہ کرتا ہے۔میں نے جان لیا کہ اگر تو مر گیا تو  یہ آزمائش اور اس کے ساتھ وہ معنوہ قوتیں  ختم ہو جائیں گی جو انسان کو پاکبازی کی تعلیم دیتی ہیں۔بلکہ وہ سبب بھی زائل ہو جائے گا،جو انسان کو نماز ،روزہ اور عبادات کی طرف لے جاتا ہے، تجھے زندہ رہنا چاہیے، اس لیے کے اگر تو مر گیا اور لوگوں کو اس کا علم ہو گیا تو دوزخ کے عذاب سے بے خوف ہو کر  عبادات چھوڑ دیں گے، اور گناہوں کی دلدل میں جا پھنسیں گے۔تجھے زندہ رہنا چاہیے کہ تیری  زندگی نوع انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے۔ رہا میں ! سو انسانی محبت کی قربان گاہ پر اس نفرت کو بھینٹ چڑھا دوں گا، جو مجھے تیری ذات سے ہے۔

شیطان نے ایک قہقہہ مارا جو آتش فشاں کے پھٹنے سے مشابہ تھا اور کہا :

مقدس باپ تو کتنا ذہین اور کنا لائق ہے، لاہوتی مسائل کے متعلق تیرا مطالعہ کس قدر عمیق ہے! تو نے اپنے قوت ادراک سے میرے وجود کا سبب طاہر کیا ہے، جو میں اس سے پہلے نہیں جانتا تھا۔اب کہ ہم میں سے ہر ایک ان فطری اور لاہوتی اسباب کی حقیقت کو پا گیا ہے، جو ہماری آفرینش اول کے بھی ضامن تھے اور اس نشاط ثانیہ کے بھی ، ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے۔

آہ! بھائی میرے قریب آ ، اور مجھے اٹھا کر اپنے گھر لے چل!

آہ! رات نے اپنا سیاہ پردہ چھوڑ دیا ہے ، جب کے میں اپنے جسم کے تقریبا آدھے خون سے اس وادی کے پتھروں کو رنگین کر چکا ہوں۔

 

سمعان پادری نے اپنی آستینیں کہنیوں تک چڑھالیں اورعبا کےدامن کوسمیٹ کرپیٹی سےکس لیا۔اسکےبعدوہ شیطان کےپاس گیا

اوراسےپیٹھ پرلادکر سڑک کا راستہ لیا۔ان پرسکون وادیوں میں جن کےچہرےپررات کی سیاہ نقاب پڑی ہوئی تھی۔سمعان پادری اپنی پیٹھ پرایک برہنہ جسم کولادے،گاوں کی طرف جارہاتھا۔جس کےزخموں سےخون بہ کراس کی داڑھی اورسیاہ کپڑوں کو دھبوں سےبھرتاجارہا تھا۔

ملتے جلتے آرٹیکلز