اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

https://www.urdulughat.pk/Post/zamana-or-qom

زمانہ اور قوم

زمانہ اور قوم

 

لبنان کے دامن میں ، نہر کے کنارے۔۔۔۔۔۔ جو چٹانوں میں بہتی ایسی معلوم ہو رہی تھی، جسے چاندے کے تارے۔۔۔۔۔ ایک بھیڑیں چرانے والی بیٹھی تھی۔اس کے چاروں طرف سوکھی دبلی بھیڑوں کا ریوڑ تھا، جو تازہ کانٹوں کے درمیان سوکھی گھاس چر رہا تھا۔۔۔۔ یہ نوخیز لڑکی دور افق کی طرف دیکھ رہی تھی  گویا فضا کے صفحات پر  مستقبل کے واقعات کا مطالعہ کر رہی ہے۔ آنسو اس کی آنکھوں میں اس طرح چمک رہے  تھے، جیسے نرگس کے پھلوں پر شبنم کے  قطرے چمکتے ہیں اور مایوسی نے اس کے لبوں کو اس طرح وا کر دیا تھا، گویا اس کے دل کی آہوں میں تبدیل کر کے سلب کر لینا چاہتی ہے۔

جب شام ہوئی اور ٹیلے سائے کی چادر اوڑھنے لگے  تو اچانک ایک بوڑھا اس نوجوان لڑکی کے سامنے آ کھڑا ہوا، جس کے سفید بال  سینہ اور شانوں پر بکھرے ہوئے تھے اور سیدھے ہاتھ میں ایک تیز درانتی تھی۔ ایسے لہجے میں  جو موجوں کی گڑ گڑاہٹ سے مشابہ تھا، اس نے کہا:

سلام !!! اے سریا!!!

لڑکی سہم کر کھڑی ہو گئی اور ایسی آواز میں ، جسے خوف منقطع کر رہا تھا اور اداسی مربوط ، اس نے کہا: 

زمانہ! اب تو  مجھ سے کیا چاہتا ہے؟

یہ کہہ کر اپنی  بھیڑوں کی طرف اشارہ کیا اور سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولی: جن بھیڑوں سے کبھی وادی بھری رہتی تھی، اب ان میں سے صرف یہ باقی بچی ہیں،بس یہی ہیں  وہ بھیڑیں جو تیرے دندان حرص  و آزار سے بچ گئی تھیں، تو کیا تو ان میں سے کچھ اور بھیڑیں چاہتا ہے؟

یہی ہیں  وہ چراگاہیں ، جنہیں میں تیرے قدموں سے پامال دیکھ رہی ہوں، حالانکہ یہی چراگاہیں  کبھی سرسبز  اور وسائل  معاش کا ہر چشمہ تھیں۔ میری بھیڑیں ان میں پھول کھاتی تھیں اور صاف و شفاف  دودھ دیتی تھیں۔ لیکن اب ان بھیڑوں کو دیکھ ان کے پیٹ حالی ہیں، اور یہ موت سے بچنے کے لیے کانٹے اور  درختوں کی جڑیں چبا رہی ہیں۔

زمانہ! خدا سے ڈر! اور میری نگاہوں سے  دور ہو جا!  تیرے مظالم کی یاد نے مجھے زندگی سے بیزار کر دیا ہے اور تیری درانتی کی  تیزی کے سبب میں موت سے محبت کرنے لگی ہوں۔ مجھے تنہا چھوڑ دے! تاکہ میں آنسوئوں کی شراب پیتی رہوں  اور نسیم غم کی موجوں میں سانس لیتی رہوں ۔

جا! اے زمانہ! مغرب میں جا!  جہاں لوگ زندگی کی مسرتوں سے شاد کام ہیں  اور مجھے ان بربادیوں پر ماتم کرنے کے لیے چھوڑ دے، جو تیرے صدقے میں ہم پر نازل ہوئی ہیں ۔

بوڑھے نے باپ کی سی شفقت سے اس کو دیکھا ،اور درانتی اپنے کپڑوں میں چھپا کر بولا: سیریا! میں نے جو کچھ تجھ سے لیا ہے،  وہ میری ہی بخشش و عطا کا ایک حصہ ہے۔ میں غارتگر ہر گز  نہیں ہوں، جو کچھ کسی سے لیتا ہوں ، مستعار لیتا ہوں اور جوں کا توں واپس کر دیتا ہوں۔تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ مجدد شرف کی خدمت سے حاصل کیا ہے، جو کبھی تیرا غلام تھا، انہوں نے اپنا حق وہی چادر اوڑھ کر  حاصل کیا ہے، جو کبھی تیرے لیے تھی میں اور انصاف ایک ہی ذلت کے دو جوہر ہیں، اس لیے مجھے وہ زیب نہیں دیتا  کہ میں تیری بہنوں کو وہ نہ دوں ، جو تجھے عطا کیا تھا۔ اور نہ میں اس پر قادر ہوں کہ میں اپنی محبت میں جانبداری سے کام لوں اس لیے کہ محبت کی تقسیم تو ازروئے انصاف ہی ہوتی ہے۔

سیریا!۔۔۔۔۔ تجھے اپنے ہمسایہ ملک ۔۔۔۔۔۔ مصر ،ایران اور یونان سے سبق لینا چاہیے،  کہ ان کی بھیڑیں بھی تیری بھیڑوں کی طرح  سوکھی دبلی اور ان کی چراگاہیں بھی  تیری چراگاہوں کی طرح بے آب و گیاہ ہیں۔

سیریا! جسے تو انحطاط و زوال سے تعبیر کر رہی ہے، میں اسے ضروری نیند سمجھتا اور کہتا ہوں، جس کے نتیجہ میں حرکت و عمل کی عشرتیں حاصل ہوتی ہیں۔ پھول حیات تازہ سے ہمکنار نہیں ہوتا ، جب تک موت سے ہم آغوش نہ ہو اور محبر، عظمت کے اوج  کمال پر نہیں پہنچتی ، جب تک فراق  و ہجر کی تنگ و تاریک گھاٹیاں  طے نہ کرے!ً۔

بوڑھا نوجوان لڑکی سے اور قریب ہو گیا ، اور اپنا ہاتھ  بڑھاتے ہوئے بولا:

 اے پیغمبر کی بیٹی مجھ سے ہاتھ ملا!

نوجوان لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اشک آلود ، آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولی:

الوداع!  اے زمانہ الوداع!!!!

رخصت ! اے سریا!!! پھر کبھی ملیں گے!

زمانہ روپوش ہو گیا جس طرح بجلی چھپ جاتی ہے۔ لڑکی نے اپنی بھیڑوں کو پکارا اور ان کے آگے دل ہی میں یہ فقرہ دہراتے ہوئے چلنے لگی:

کیا پھر ملاقات ہو گی؟ کیا پھر ملاقات ہو سکتی ہے؟!!!!

ملتے جلتے آرٹیکلز