اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

خانم کونیکو یاما مورا

کونیکوکی ہجرت۔۔۔۔ لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اُنہیں پتہ ہے کہ جنگ میں غذائی قلت کا اژدھا کیسے پھنکارتا ہے۔ وہ ایک بودایی خاندان میں پیدا ہوئیں تو اُن کی ماں اور باپ نے ان کا نام کونیکو رکھا۔ کونیکو ایک جاپانی لفظ ہے۔ جاپانی میں کونیکو یعنی وطن کی بیٹی۔ جاپان دنیا کی وہ پہلی جگہ ہے، جہاں سورج سب سے پہلے طلوع ہوتا ہے۔ اسی لئے جاپان کو سرزمین خورشید بھی کہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی ایک خوفناک رات کا واقعہ ہے۔

محبت

محبت

نہر کے کنارے ، اخروٹ اور بید مشک کے درختوں کے چھائوں تلے ایک غریب کسان کا لڑکا بیٹھا، بہتے پانی کو نہایت سکون و خاموشی سے دیکھ رہا تھایہ نوجوان کھیتوں میں پروان چڑھا تھا، جہاں ہر چیز محبت کی کہانی سناتی ہے،جہاں شاخیں آپس میں گلے ملتی ہیں،

شاعر

شاعر

ایک کڑی ، جو اس عالم کو آنے والے عالم سے ملاتی ہے!
ایک شیریں چشمہ ، جس سے پیاسی روحیں پانی پیتی ہیں!

زمانہ اور قوم

زمانہ اور قوم

لبنان کے دامن میں ، نہر کے کنارے۔۔۔۔۔۔ جو چٹانوں میں بہتی ایسی معلوم ہو رہی تھی، جسے چاندے کے تارے۔۔۔۔۔ ایک بھیڑیں چرانے والی بیٹھی تھی۔اس کے چاروں طرف سوکھی دبلی بھیڑوں کا ریوڑ تھا، جو تازہ کانٹوں کے درمیان سوکھی گھاس چر رہا تھا۔۔۔۔ یہ

آتشیں حروف

آتشیں حروف

کیا راتیں ہم پر اسی طرح گزرتی رہیں گی؟ کیا زمانہ کے قدموں تلے ہم اسی طرح پامال ہوتے رہیں گے؟َ کیا قومیں ، ہمیں اس طرح اپنی تہوں میں ہمیں لپیٹتی رہیں گی، اور ہمارے نام کے سوا ، جسے وہ روشنائی کی بجائے پانی کتاب روزگار پر لکھیں گے، ہماری کوئی حفاظت نہ کریں گی؟

مستقبل

مستقبل

حال کی دیواروں کے پیچھے میں نے انسانیت کے نغمہ ہائے عبودیت سنے ، گھنٹوں کی آوازیں سنیں، جو عبادت گا ہ جمال میں آغاز کا اعلان کرتی ہوئی ، ایتھر کے ذرات کو متحرک کر رہی تھیں۔۔۔۔ ہاں! ان گھنٹوں کی آوازیں سنیں جنہیں قوت نے احساسات کی دھات کو پگھلا کر بنایا ۔۔۔۔

بوڑھی ملکہ

بوڑھی ملکہ

چار غلام ایک بوڑھی ملکہ کو جو تخت پر محو خواب تھی کھڑے پنکھا جھل رہے تھے۔ ملکہ خراٹے لے رہی تھی۔ اس کی گود میں ایک بلی لیٹی غرا رہی تھی، اور غلاموں کی طرح سستائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

تارک الدنیا

تارک الدنیا

میں جوانی کے عالم میں ایک مرتبہ ایک تارک الدنیا شخص سے ملا۔ جو پہاڑیوں سے پرے ایک خاموش اور پر سکون وادی میں رہتا تھا۔ ہم نیکی کی حقیقت پر گفتگو کر رہے تھے، کہ ایک تھکا ماندہ ہوا ڈاکو پہاڑی سے لنگڑاتا ہوا آیا۔

ہوس اقتدار

ہوس اقتدار

ایک دفعہ میں نے ایک انسانی سر اور لوہے کے پائوں والا دیو دیکھا ، جو پیہم زمین کو کھاتا اور سمندر کو پیتا تھا، میں دیر تک اسے دیکھتا رہا، پھر میں اس کے قریب گیا اور پوچھا: کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں؟ تم کبھی سیر نہیں ہوئے؟

چار شاعر

چار شاعر

چار شاعر شراب کے ایک پیالے کے گرد بیٹھے تھے جو ایک میز پر پڑا تھا۔
پہلے نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں اپنی تیسری آنکھ سے اس شراب کی مہک کو وسعت پر ایسے منڈلاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جیسے کسی سحر زدہ جنگل پر پرندوں کا جھلر۔