اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

لہروں کا گیت

لہروں کا گیت

مظبوط ساحل میرا محبوب ہے اور میں اس کی محبوبہ ہوں۔
محبت ہمیں کبھی نہ کبھی ایک دوسرے سے ملا دیتی ہے اور پھر چاند مداخلت کرتاہے۔اور ہمیں جدا کر دیتا ہے۔

انصاف

انصاف

ایک رات قصر شاہی میں ایک دعوت ہوئی ، اس موقع پر ایک آدمی آیا اور اپنے آپ کو بادشاہ کے حضور پیش کیا، تمام مہمان اس کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ باہر نکل آئی اور خالی جگہ سے خون بہہ رہا ہے۔

طوفان

طوفان

یوسف الفاخری کی عمر تب تیس سال کی تھی ،جب انھوں نے اس دنیا کو چھوڑ دیا اور شمالی لبنان میں وہ قدیسا کی گھاٹی کے قریب ایک پرسکون آشرم میں رہنے لگے ۔آس پاس کے گاؤوں میں یوسف کے متعلق طرح طرح کی کہانیاں سننے میں آتی تھیں ۔

انسان اور فطرت

انسان اور فطرت

ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا "اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا "اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں.

دانشمند بادشاہ

دانشمند بادشاہ

ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ایک شہر پر جس کا نام ویرانی تھا۔ ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔جو بہت بہادر اوردانشمند تھا اس کی بہادری کی وجہ سے لوگ اس سے ڈرتے تھے اور اس کی دانشمندی کی وجہ سے اسے پیار کرتے تھے ۔

دو عالم

دو عالم

ایک شہر میں دو عالم رہتے تھے۔ جو آپس میں بہت اختلاف رکھتے تھے اور ایک دوسرے کی قابلیت کا مضحکہ اڑاتے تھے، ان میں ایک دہریہ تھا اور دوسرا خدا پرست۔

ناقد

ناقد

ایک رات کا ذکر ہے کہ ایک آدمی گھوڑے پر سوار سمندر کی طرف سفر کرتا ہوا سڑک کے کنا رے ایک سرائے میں پہنچا ۔
وہ اترا اور سمندر کی جانب سفر کرنے والے سواروں کی طرح رات اور انسانیت پر اعتماد رکھتے ہوئے اپنے گھوڑے کو سرائے کے دروازے کے قریب درخت سے باندھا اور سرائے میں چلا گیا۔

حیات

حیات

حیات نے مجھے جوانی کے بلند پہاڑ کی سطح پر لا کھڑا کیا اور مجھے اشارہ کیا کہ اپنے پیچھے نظر ڈالوں۔
میں نے اپنے پیچھے نگاہ ڈالی۔مجھے ایک اجنبی شکل و صورت کا ایک شہر نظر آیا جو میدان کے اُس پار مربع شکل میں کھڑا تھا۔

ماں کی گود

ماں کی گود

قادسیہ کی وادی میں جہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں باہم ملنے پر یوں گویا ہوئیں
پہلی بولی: کہو سہیلی راستہ کیسے کٹا تمہارا

یہ حد سے تجاوز کرچکا ہے

یہ حد سے تجاوز کرچکا ہے

کل مفکر اور ادیب میرے ان گذشتہ خیالات کو پڑھ کر غصے سے کہیں گے ۔
یہ حد سے تجاوز کرچکا ہے۔