اُردُولُغت

اردو ذخیرہ الفاظ

آن لائن اردو لغت مفصل تلاش کے ساتھ

سحر ہونے سے پہلے

سحر ہونے سے پہلے

دن چھپ گيا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روشنی ماند پڑ گئی اور سورج نے بعلبک کے میدانوں سے اپنی کرنیں سمیٹ لیں، تو علی الحسینی انہی بھیڑوں کے ریوڑ کو لیۓ ہیکل کے کھنڈروں کی طرف لوٹا اور ان ستونوں پر بیٹھ گیا جو زمین پر اس طرح پڑے تھے گویا میدان جنگ میں بہت سے سپاہیوں کی ہڈیاں اور پنجر بکھرے پڑ ے ہیں

ایام حیات

ایام حیات

تم چاہتے ہو اپنی زندگی کے وقت کو ناپ لو؟
حالانکہ وہ ناپا نہیں جاسکتا۔تم چاہتے ہو وقت اور موسم کے متعلق اپنے عمل اور روح کا راستہ تجویز کرو۔تم سمجھتے ہو وقت ایک دریا ہے -جس کے کنا رے پر بیٹھ کر تم بہتے پانی کی سیر کر سکتے ہو

قیامت

قیامت

قیامت جھٹ سے آ جاتی ہے اور غم لاتی ہے . وہ تمہیں بھیانک نگاہوں سے دیکھتی ہے تیکھی انگلیوں سے تمہارا گلا پکڑتی ہے تمہیں زمین پر پٹختی ہے اور آہنی جوتوں والے پاؤں سے روند ڈالتی ہے پھر ہنسی ہنسی چلی جاتی ہے لیکن بعد میں اپنے کیے پر پچھتاتی ہے

ہم دھندلکوں میں چلے جائیں گے

ہم دھندلکوں میں چلے جائیں گے

ہم دھندلکوں میں چلے جائیں گے،شاید ایک دوسری دنیا کی صبح میں جاگنے کے لئے
تاہم محبت موجود رہے گی

غلامی

غلامی

لوگ زندگی کے غلام ہوتے ہیں،یہی غلامی ان کے دنوں کو ذلت و مسکنت سے اور راتوں کوآنسووں اور خون سے لبریز کردیتی ہے۔اب دیکھیے ناکہ میری پیدایشِ اولین پر ستر ہزارسال کا عرصہ گزرچکاہے اور میں نے اب تک شکست خوردہ وپابہ زنجیرغلاموں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ می

درویش بادشاہ

درویش بادشاہ

لوگوں نے مجھے بتایا کہ پہاڑوں کے درمیان ایک کنج میں ایک نو جوان تنہا رہتا تھا جو کبھی ان دریاؤں کے پار وسیع ملک کا تاجدار تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کے کہ وہ اپنی مرضی سے تاج و تخت اور اپنے پر عظمت ملک کو خیر آباد کہہ کر اس جنگل میں آبسا تھا۔

دوستی

دوستی

تمہارا دوست وہ ہے جو تمہاری احتیاج پوری کرے
وہ تمہارا وہ کھیت ہے جس میں تم محبت کی تخم پوشی کرتے ہو
اسی کھیتی کو تم تشکر اور اطمینان کے ساتھ کاٹتے ہو

جہاں سلطانہ پڑھتی تھی۔

جہاں سلطانہ پڑھتی تھی۔

وہ اس کالج کی شہزادی تھی اور شاہانہ پڑھتی تھی
وہ بے باکانہ آتی تھی وہ بے باکانہ پڑھتی تھی

گورکن

گورکن

شکست و ریخت کے شکار بھربھری ہڈیوں والے ڈھانچوں ماحول پر دہشت طاری کیے ہوئے تھے، رات بھی سوئے اتفاق اتنی کالی تھی کہ ستارے بھی کالی چادر اوڑھے سوگئے تھے۔

جب طوفان گزر گیا

جب طوفان گزر گیا

لہلہاتے ہوئے کھیتوں کو زمین پر بچھا دینے اور بڑے بڑے درختوں کی مظبوط شاخوں کو توڑ دینے کے بعد طوفان تھم گیا۔ اور اس طرح سناٹا چھا گیا، جیسے قدرت ہمیشہ سے پر امن رہی ہو۔ ستارے دوبارہ نظر آنے لگے۔